Al-Risala · November 2020 · page 25

کون کنٹرول کرے

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۵

کون کنٹرول کرے

سر جولین ہکسلے [1887-1975] Sir Julian Sorell Huxley کی ایک کتاب ہے جس کا نام مذہب بغیر الہام“ ہے:

Julian Huxley: Religion Without Revelation (1957), Harper, p. 393 مصنف نے اس کتاب میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مذہب (معنی انسانی طریقہ) الہام خداوندی کی بنیاد پر قائم کرنے کا دور ختم ہو گیا۔ اب انسان خود اپنا مذہب بنا رہا ہے۔ اس مذہب کی بنیاد عقل (ریزن) پر ہے، اور اس کا نام ہیومنزم ہے۔ مصنف کے نقطہ نظر کا خلاصہ اس کے ان الفاظ میں ہے موجودہ زمانے میں انسان نے بڑی حد تک خارجی فطرت کی طاقتوں کو جاننے، ان کو کنٹرول کرنے اور ان کو استعمال کرنے کی بابت سیکھ لیا ہے۔ اب اس کو خود اپنی فطرت کی طاقتوں کو جاننے اور ان کو کنٹرول کرنے اور ان کو استعمال کرنے کی بابت سیکھنا ہے: Man has learnt in large measure to understand, control and utilize the forces of external nature: he must now learn to understand, control and utilize the forces of his own nature. یہی موجودہ زمانے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ملحدین کا عام نظریہ ہے۔ مگر یہ لفظی تک بندی کے سوا اور کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خارجی مادے کو کنٹرول کرنا جتنا ممکن تھا، اتنا ہی یہ ناممکن ہے کہ انسان خود اپنی فطرت کو کنٹرول کرے۔

مادہ خود اپنے آپ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ اسی طرح انسان بھی خود اپنے آپ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ انسان کے لیے مادہ کو کنٹرول کرنا اس لیے ممکن ہوا کہ انسان کو اپنے دماغ کی بنا پر مادہ کے اوپر بالاتری حاصل تھی۔ اسی طرح انسان کو وہ ہستی کنٹرول کر سکتی ہے، جس کو انسان کے اوپر بالاتری حاصل ہو۔ کوئی بھی ہستی اپنے برابر کو کنٹرول نہیں کر سکتی انسان کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک برتر خدا کا عقیدہ درکار ہے۔ برتر خدائی عقیدے کے سوا کوئی چیز نہیں جو انسان کو قابو میں رکھ سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page