Al-Risala · November 2020 · page 26

کون کنٹرول کرے

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۶

کوئزار ایک ارب سورج سے بھی زیادہ روشن فلکیات (astronomy) میں اجرامِ فلکی (مثلاً، چاند، سیارے، ستارے، نیبولا، گلیکسی، وغیرہ)، اور زمینی کرۂ ہوا کے باہر رونما ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ برسات کے موسم میں جب فضا بالکل صاف ہوتی ہے، آسمان پر لمبے روشنی کے بادل دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ہماری کہکشاں (Galaxy) ہے، جس کا نام ملکی وے (Milky Way) ہے۔ اس کے اندر ہمارا سولر سسٹم واقع ہے۔ روشنی کے بادل حقیقت میں بادل نہیں ہیں، بلکہ بے شمار ستاروں کے مجموعے ہیں، جو دور ہونے کی وجہ سے ملے ملے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر آپ دوربین (telescope) سے دیکھیں تو بادل کے بجائے آپ کو الگ الگ ستارے دکھائی دیں گے۔ زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا سورج بظاہر بہت بڑا نظر آتا ہے۔ مگر کہکشاں کے اکثر ستارے اس سے بھی زیادہ بڑے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار کہکشانی مجموعے کائنات کی وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مثلاً فلکیات کی حیران گُن دریافتوں میں سے ایک وہ ہے، جس کو کوئزار (Quasar) کہا جاتا ہے:

Quasar, an astrmonomical object of very high luminosity found in the centres of some galaxies and powered by gas spiraling at high velocity into an extremely large black hole. The brightest quasars can outshine all of the stars in the galaxies in which they reside, which makes them visible even at distances of billions of light-years. Quasars are among the most distant and luminous objects known. (www.britannica.com/science/quasar [accessed on 02.04.2020])

کوئزار زمین سے دور دراز فاصلے پر واقع ایک آسمانی جرم (object) ہے، جس سے ریڈیائی لہریں کثیر مقدار میں نکلتی ہیں۔ کائنات کے انتہائی بعید کناروں پر واقع یہ شبہ ستارے بے حد روشن ہیں۔ ایک پوری کہکشاں جس میں سورج یا اس سے بڑے بڑے ایک ارب ستارے ہوں، جتنی انرجی (روشنی اور حرارت) خارج کرتی ہے، اتنی زیادہ انرجی (energy) تنہا ایک کوئزار خارج کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page