Al-Risala · November 2020 · page 45

خدا ترس شخصیت

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۵

میری ایک پرانی بات ہے، لیکن آج کل میں کچھ اور سوچتا رہتا ہوں۔ تو ریالو صاحب نے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ تو مولانا نے کہا کہ میں اب اپنی عمر کی آخری منزل پر پہنچ چکا ہوں پتہ نہیں کہ کب موت کا فرشتہ مجھے لینے آجائے اور اللہ کے سامنے حاضر کر دے۔ میں خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنی نجات کے لیے کیا پیش کر سکتا ہوں۔

اگر میں یہ کہوں کہ میں نے اسلام پر اتنی کتابیں لکھی ہیں تو ان کی قیمت خدا کے پاس کیا ہو سکتی ہے جب کہ ایک دیا سلائی ان کتابوں کو جلا کر راکھ میں تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے ایک بار یہ کہا تھا: لَنْ يُدْخِلَ أَحَداً مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ۔ قَالُوا: وَلَا أَنْتَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2816)۔ یعنی تم میں سے کسی کو اس کا عمل ہرگز جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے کہا: آپ بھی نہیں، اے خدا کے رسول؟ آپ نے کہا: میں بھی نہیں۔ سوایہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانک لے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ اپنے عمل سے نہیں بلکہ خدا کی رحمت سے جنت پائیں گے تو میری اور میری کتابوں کی حیثیت کیا ہوگی۔ بس میں اسی سوچ میں رہتا ہوں کہ میں خدا کی رحمت کا کیسے مستحق بن سکتا ہوں۔ یہ کہہ کر مولانا رونے جا رہے تھے، اور مولانا کے ساتھ شیخ ریالو صاحب بھی زار و قطار رونے لگے۔

یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹے کی رہی، جس میں مولانا آخرت کی باتیں کرتے رہے اور شیخ ریالو صاحب روتے رہے۔ یہ پوری ملاقات رونے پر ہی ختم ہو گئی۔ اس واقعے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح سے ریالو صاحب خدا اور آخرت کے ذکر پر رویا کرتے تھے بلکہ میں نے ان کو بہت سی راتوں میں تہجد کے وقت روتے ہوئے پایا ہے۔ یہ تھی شیخ ریالو صاحب کی خدا ترس شخصیت۔ اللہ سے دعا ہے کہ خدا ان کی گریہ وزاری کو قبول فرما کر ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔ (مولانا خطیب اسرار الحسن عمری، چینی)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page