Al-Risala · November 2020 · page 46

ایگو فری شخصیت

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۶

ایگو فری شخصیت

مولاناریاض موسیٰ صاحب ملیباری کا انتقال 8 جون 2020 کو ہوا۔ تقریباً 1980 سے ریاض موسیٰ صاحب کی شب و روز کی مصروفیت بس ایک ہی تھی ۔ غیر مسلموں میں اسلامی دعوت کے لیے مسلم نو جوانوں کی ذہن سازی اور اس کاز کے لیے ان نوجوانوں کی گرو منگ (grooming)۔ اس کام کے لیے انھوں نے اپنے آپ کو پوری طرح ایک ایگو فری شخص (ego free person) بنا لیا تھا۔ وہ کبھی نہ اپنی ایگو (ego) کو جاگنے دیتے اور نہ ہی کسی کی ایگو (ego) کوہٹ (hit) کرتے۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے ۔ ریاض موسیٰ صاحب اور میں ساؤتھ انڈیا سے لمبا سفر کرتے ہوئے ایک مشہور شخصیت سے ملاقات کے لیے یوپی کے شہر متھوناٹھ بھجن پہونچے۔ میزبان موصوف نے اپنے گھر کے صحن میں ہمارے بیٹھنے کا اہتمام کیا، اور ہمارے لیے ضیافت کی تیاری کا اپنے اہل خانہ کو حکم دیا۔ مگر مقصد سفر "غیر مسلموں میں دعوت‘‘ کی بات پر ہمارے میزبان محترم ہم پر بہت ناراض ہو گئے اور انھوں نے ہمیں اپنے گھر سے فوراً باہر جانے کا حکم دیا، اور ہمارے لیے تیار ہو رہی ضیافت بھی کینسل کرادی۔

میں انتظار میں تھا کہ اب استاد محترم کا رد عمل کیا ہوتا ہے دیکھوں۔ مگر وہ مسلسل ایسے خاموش رہے گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ہمیں ایک شخص نے اپنے گھر سے باہر نکلوا دیا تھا، اور ہمارے لیے تیار کی ہوئی ضیافت کینسل کروالی تھی۔ انسانی فطرت کے اعتبار سے اس بے عزتی کے واقعہ کی کسک آج بھی میں محسوس کرتا ہوں، مگر ریاض موسیٰ صاحب ملیباری کے چہرے پر میں نے وہی سکون دیکھا جو اس واقعہ سے پہلے میں نے ان کے چہرے پر دیکھا تھا۔ اس طرح کے واقعات اس دور میں ہمارے ساتھ اور بھی جگہوں پر پیش آئے۔ مگر ہر بار میرا تجربہ یہی تھا کہ وہ کبھی افنڈ (offend) نہیں ہوتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page