لاک ڈاؤن، ایک بلیسنگ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۵
لاک ڈاؤن، ایک بلیسنگ
اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کر کے زمین پر آباد کیا۔ اس کو ہر قسم کے مواقع فراہم کیے، اور پھر اس کو پوری آزادی دے دی۔ اب یہ انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر کے اپنے آپ کو ابدی کامیابی کا مستحق بنائے، اور اگر وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کے لیے تخلیقی منصوبے کے مطابق ابدی ناکامی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔
جدید صنعتی انقلاب کے بعد اللہ نے انسانوں کے لیے تمام نعمتوں کے دروازے کھول دیے پہلے زمانے میں انسان صرف ضرورت پر زندگی گزارتا تھا۔ لیکن موجودہ دور کی سائنسی تہذیب نے لگژری (luxury) کے بے شمار سامان انسان کے لیے فراہم کر دیے ۔ یہ تمام بلیسنگز (blessings) انسان کے لیے بطور عطیہ تھے۔ مگر انسان نے ان کو بطور عطیہ ڈسکور نہیں کیا، بلکہ اس کے بجائے اس حصول کو اپنا نشانہ بنا لیا، جس کو آج اس طرح بیان کیا جاتا ہے: Work hard, party harder اس کا مطلب ہے کہ محنت سے دولت کمانا، لیکن اس سے زیادہ محنت کے ساتھ لگژوریس لائف (luxurious life) گزارنا۔ لگژوریس آئٹم کا انفجار (explosion) اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی عطیہ ہے۔ یہ تمام آئٹم لائف سپورٹ سسٹم کے تحت وجود میں آئے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی آئٹم انسان خود سے پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ پورا نظام خالق کی طرف سے انسان کے لیے یک طرفہ عطیے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ عطیہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان سنجیدہ ہو کر یہ سوچے کہ اس نے ان نعمتوں کے معطی (giver) کا اعتراف کیا ہے یا نہیں۔ مگر انسان اس حقیقت کو بھول کر جس راستے پر چلنے لگا، وہ یہ تھا کہ مثلاً کسی نے اس قسم کی کتاب لکھ ڈالی: Man Stands Alone یعنی انسان اس دنیا میں آل پاور فل (all-powerful) ہے، وہ جو چاہے کر سکتا ہے، کوئی اس کا خدا نہیں ہے، جس کے سامنے جواب دہ ہو۔ کسی نے اپنے لگژوریس لائف اسٹائل کے لیے یہ