لاک ڈاؤن، ایک بلیسنگ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۶
اصول بنایا رائٹ ہیر، رائٹ ناؤ(right here, right now)_ یعنی تمھیں جو خواہش پوری کرنی ہے، وہ اسی دنیا میں پوری کرلو۔
مگر انسان کا یہ عمل خالق کی اسکیم آف تھنگس کے خلاف تھا۔ غالباً اسی حقیقت کو یاد دلانے کے لیے کورونا وائرس کا معاملہ پیش آیا ہے۔ کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پوری دنیا کی گورنمنٹ اس بیماری کے اثرات کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن (lockdown) کا طریقہ اختیار کر رہی ہے، تاکہ عوام سماجی طور پر ایک دوسرے سے دوری اختیار کریں، اور اس بیماری کا اثر کم ہو۔
لاک ڈاؤن کیا ہے۔ ایک ہنگامی اقدام ہے، جس میں خطرے کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو ایک محدود علاقے یا بلڈنگ کو چھوڑنے سے عارضی طور پر روک دیا جاتا ہے۔ لیکن ان کے لیے جو ضروری سروس ہو، اسے جاری رکھا جاتا ہے۔ یعنی لگژوریس لائف سے دور رہ کر اعتكاف جیسی سادہ زندگی گزارنا۔ لاک ڈاؤن کوئی برائی نہیں ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے تدبر و تفکر کے لیے جبری سچویشن (compulsive situation) ہے۔ یہ گویا اسپیڈ بریکر ہے۔
یہ اس لیے ہے تا کہ انسان دوڑ بھاگ کی زندگی(hectic life) سے دور رہ کر اپنا احتساب کرے ۔ وہ اپنے منصوبۂ تخلیق کو جاننے کی کوشش کرے۔ وہ یہ سوچے کہ اس کا صحت مند جسم اس کی اپنی تخلیق نہیں ہے۔ کھانا اور پانی اور آکسیجن، وغیرہ اس کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کے خالق نے اس کو یہ چیزیں عطا کی ہیں۔ وہ اس حقیقت کو ڈسکور کرے کہ وہ دنیا میں آل پاورفل (all-powerful) نہیں ہے، بلکہ آل پاورفل اس کا خالق ہے، انسان آل پاورلیس (all-powerless) ہے۔ اس کو ماڈرن سائنسی ایجادات بطور انعام نہیں ملے ہیں، وہ بطور امتحان ہیں۔ وہ اس لیے ہیں کہ انسان اس کے ذریعے خالق کی اعلی معرفت حاصل کرے، اور پرامن انداز میں تمام انسانوں کو خالق کے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کرے ۔ وہ لگژوریس لائف اسٹائل کو اپنا نشانہ بنانے کے بجائے سادہ زندگی، اونچی سوچ کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے، جو اس کو ابدی جنت کا مستحق بنائے۔ (مضمون روز نامہ راشٹریہ سہارا، 28 مارچ 2020 میں شائع ہو چکا ہے)