Al-Risala · May 2020 · page 9

صحیح آغاز

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۹

صحیح آغاز

اسلامی عمل کا صحیح آغاز یہ ہے کہ اس کا آغاز اللہ رب العالمین کی دریافت سے کیا جائے۔ جب کسی انسان کا حال یہ ہو کہ وہ سچائی کی تلاش میں سرگرداں ہو، اور پھر اس کو سچائی مل جائے تو اس کا کیس یہ ہوتا ہے کہ گویا وہ تاریکی سے روشنی میں آ گیا۔ اس کو اپنے کام کے ابتدا میں کام کے آغاز کا سرا (starting point) مل گیا۔

ایسا آدمی بھٹکنے والا انسان نہیں ہوگا، بلکہ وہ پانے والا انسان ہوگا۔ اس کا ہر قدم منزل کی طرف اٹھے گا، نہ کہ بے فائدہ بھٹکاؤ کی طرف۔ ایسے آدمی کا آغاز یقین سے ہوگا، نہ کہ شکوک وشبہات کے جنگل سے۔ ایسا آدمی ایک زندہ انسان ہے۔ ایسا آدمی تخلیقی ذہن (creative mind) کا حامل ہے۔ اس کی ہر صبح امید کی صبح ہوگی، اور اس کی ہر شام نئے نئے سبق لے کر آئے گی۔ خالق کی دریافت ایک مائنڈ باگلنگ (mind boggling) دریافت ہے۔ جس آدمی کو خالق کی دریافت ہو جائے، اس کا ذہن آخری حد تک جاگ اٹھے گا۔ وہ ہر اس چیز کو پالے گا، جس کو پانا چاہیے، اور ہر اس چیز میں الجھنے سے بچ جائے گا، جس میں الجھنے سے بچنا چاہیے۔ اللہ رب العالمین کو پانا، حقیقت کے سرے کو پانا ہے۔ وہ ہر معاملے کا نقطۂ آغاز (starting point) ہے۔ جس آدمی کو اسٹارٹنگ پوائنٹ نہ ملے، اس کا کیس بھٹکنے کا کیس ہے۔ جو آدمی اپنے رب کو پالے، اس نے یقین کے سرچشمے کو پالیا۔ جس آدمی نے اپنے رب کو نہیں پایا۔ اس نے گویا سب سے زیادہ پانے والی چیز ہی کو نہیں پایا۔ ایسے آدمی کے حصے میں اندھیرے میں بھٹکنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا کی دریافت کا موقع تمام عورت اور مرد کو ہر لمحہ ملتا رہتا ہے۔ مثلاً ہر صبح جب سورج نکلتا ہے تو وہ انسان کے لیے نئی امیدوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ ہر صبح انسان کے لیے اس طرح آتی ہے کہ وہ سوئے ہوئے انسان کو جگائے، وہ اندھیرے میں بھٹکنے والے انسان کو دوبارہ روشنی کے دروازے پر لا کر کھڑا کر دے۔ اگر انسان سنجیدہ ہو تو اس میں وہ اپنے خالق کو دریافت کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page