تعمیرِ شخصیت
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۸
استعمال بنانے کے لیے خالق نے مختلف انتظامات کیے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ زمین مسلسل طور پر حرکت کی حالت میں ہے۔ مگر خالق نے زمین پر خصوصی اہتمام کر کے زمین پر استحکام (stability) قائم کردی۔ اسی استحکام کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسان زمین کے اوپر ایک اعلیٰ تہذیب وجود میں لائے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ جب اس کے اوپر کوئی مصیبت آئے تو وہ اس کو شکایت کے طور پر نہ لے، بلکہ وہ اس کو وہ نیوٹن کی طرح مثبت اعتبار سے دیکھے، اور ان کے ذریعے وہ عطیات خداوندی کو دریافت کرے، اور ان کو دریافت کر کے زمین پر ایک اعلیٰ تہذیب کی تشکیل کرے۔
دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ہر چیز آپ کو بالقوۃ (potential) صورت میں ملتی ہے۔ آپ کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ آپ اس مخفی امکان کو دریافت کریں، اور اس پونشل کو ذاتی عمل سے اپنے لیے اچول (actual) بنائیں ۔ مثلاً درخت کا پھل آپ کو خود سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ آپ کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ زرخیز زمین (soil) میں ایک پودا لگائیں۔ اس کی نگہداشت کرتے ہوئے اس کو اگانا شروع کریں۔ اس طرح وہ وقت آتا ہے، جب کہ درخت ایک مکمل درخت بن جائے ، اور اپنا پھل آپ کو دینا شروع کرے۔ یہی معاملہ ربانی تہذیب کی تشکیل کا بھی ہے۔
ان بالقوۃ چیزوں کو بالفعل (actual) بنانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان کے اندر تخلیقی صلاحیت موجود ہو۔ یہ دباؤ (pressure) کا تجربہ ہے، جو کسی آدمی کے اندر تخلیقی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ دباؤ کے یہ حالات انسان کے اندر نئی سوچ پیدا کرتے ہیں، اس کے عمل کو نیا رخ (direction) دیتے ہیں۔ وہ انسان کو اپنے عمل کی ری پلاننگ (replanning) کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ انسان کی سوچ کو نیا زاویہ عطا کرتے ہیں۔ اس طرح انسان اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے عمل کو تخلیقی عمل بنائے۔ وہ فطرت کے نظام کو اختیار کر کے اپنے آپ کو کامیاب بنائے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ زمین پر موجود تمام امکانات کو اپنے لیے استعمال کرے، اور اپنے آپ کو خالق کا مطلوب انسان بنائے، جس کے لیے اس کے خالق نے اس کو موجودہ دنیا میں بھیجا ہے۔