موت کے دروازے پر
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۱۲
موت کے دروازے پر
میں یوپی کے ایک گاؤں میں 1925 میں پیدا ہوا۔ ہمارے گاؤں میں ایک قصاب تھا، جس کو بشیر قصاب کہا جاتا تھا۔ نوجوانی کی عمر میں میں نے وہاں ایک واقعہ دیکھا تھا، جو آج تک مجھے پوری طرح یاد ہے ۔ میں نے دیکھا کہ بشیر قصاب ایک بکری لے کر آیا، اور وہ اپنے گھر کے عین دروازے تک پہنچ گیا۔ اب یہ منظر تھا کہ بکری پیچھے کی طرف جانے کے لیے پوری کوشش کر رہی تھی، اور بشیر قصاب اس کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے گھر کے اندر داخل کرنا چاہتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ بکری کا آدھا جسم بشیر قصاب کے دروازہ کے اندر تھا، اور اس کا آدھا جسم گھر کے باہر، اور قریب تھا کہ بشیر قصاب کا مضبوط ہاتھ بکری کو گھر کے اندر داخل کر دے۔ یہ منظر میں نے دیکھا تو مجھے اس واقعے میں ایک بوڑھے انسان کی تصویر نظر آئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے بوڑھا انسان اپنی پوری طاقت سے باہر کی طرف جانا چاہتا ہے، لیکن قانون فطرت کا مضبوط ہاتھ اس کو اندر (بڑھاپے) کی طرف کھینچ رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے بوڑھے انسان کو موت دروازے میں داخل کر دیا۔ ایسا داخلہ جس کے بعد واپسی ممکن نہ ہوگی ۔ یہ واقعہ ہر انسان کے ساتھ پیش آنے والا ہے، جو دنیا میں اپنی عمر پوری کر چکا ہو۔ اس وقت آدمی اندر جانے سے بچنا چاہتا ہے، مگر کسی کا مضبوط ہاتھ آخر کار اس کو اندر داخل کر دیتا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیدُ (50:19) ۔ یعنی موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آپہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔ ہر آدمی کو موت کے دروازے پر پہنچنا ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے، جس نے اس لمحے کے آنے سے پہلے اپنے بچاؤ کا سامان تیار کر لیا، اور ہلاک ہونے والا وہ ہے، جو اس وقت جاگے جب کہ جاگنے کا وقت گزر چکا ہو۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اُس لمحے کی تیاری کرے، نہ یہ کہ وہ اس سے بھاگنے کی لاحاصل کوشش کرے۔