بڑھاپے کی عمر
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۱۳
بڑھاپے کی عمر
بڑھاپے کی عمر کسی آدمی کی عمر کا گولڈن پارٹ ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں آدمی اپنی عمر کے اس حصے میں ہوتا ہے، جس کو پختگی (maturity) کی عمر کہا جاتا ہے۔ بڑھاپے کی عمر تجربات، یعنی زیادہ عقل کی عمر ہوتی ہے۔ بڑھاپے کی عمر چیزوں کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ دیکھنے کی ہوتی ہے۔ بڑھاپے کی عمر آدمی کی عمر کا وہ حصہ ہوتا ہے، جب کہ وہ اپنے آپ کو دنیا سے دور اور آخرت سے قریب محسوس کرنے لگتا ہے۔ بڑھاپے کی عمر آدمی کو انسانوں سے دور اور خدا سے قریب کر دیتی ہے۔ بڑھاپے کی عمر کسی آدمی کے لیے خالق کا بہترین عطیہ ہوتی ہے، بشرطیکہ انسان کو اس کے ساتھ بڑھاپے کو جھیلنے کی طاقت بھی مل جائے۔ بڑھاپے کی عمر مسائل کی عمر ہوتی ہے۔ اگر کسی کو جھیلنے کی طاقت نہ ملی ہو تو وہ صرف منفی سوچ میں جئے گا، اور منفی سوچ میں مرے گا۔ اس کے برعکس، اگر کسی کو خالق کی طرف سے بڑھاپے کے ساتھ بڑھاپے کو جھیلنے کی طاقت بھی مل جائے تو ایسا انسان سوپر انسان (super man) بن جاتا ہے۔ بڑھاپے کی عمر آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے زیادہ مفید انسان کی حیثیت سے زندگی گزارے۔
بڑھاپے کی عمر میں انسان امکانی طور پر کامل انسان کی عمر میں پہنچ جاتا ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں آدمی کے پاس تجربات کی جو مقدار ہوتی ہے، وہ اس سے پہلے اس کے پاس کبھی نہیں ہوتی۔ عمر گزرنے کے ساتھ جسمانی اعتبار سے انسان کے اندر کمی آتی ہے، لیکن سوچ کے اعتبار سے وہ زیادہ متحرک انسان بن جاتا ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں آدمی زندگی کے راز کو اس سے زیادہ گہرائی سے جاننے لگتا ہے، جتنا کہ اس سے پہلے جانتا تھا۔
بڑھاپے کی عمر میں آدمی کو یہ انوکھی صفت حاصل ہو جاتی ہے کہ لوگ اس کو اپنے باپ یا اپنے دادا کے برابر سمجھنے لگتے ہیں، اس کے نتیجے میں بوڑھے آدمی کو ایک ریورنس (reverence) مل جاتا ہے، جو عمر کے کسی اور حصے میں نہیں ملتا۔