Al-Risala · May 2020 · page 17

بڑھاپا، ایک نشانِ راہ

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۱۷

بڑھاپا، ایک نشانِ راہ

بوڑھے آدمی کا ایک اہم رول ہے۔ ہر بوڑھا آدمی زندگی کے راستے پر ایک نشانِ راہ (signpost) بن کر کھڑا ہوا ہے۔ وہ زندگی کے راستے پر چلنے والے ہر انسان کو بزبانِ حال یہ بتا رہا ہے کہ اے انسان، تیری سب سے بڑی پونجی (asset) ٹائم ہے۔ یہ ٹائم ہر لمحہ گزر رہا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ ہوگا، لیکن تیرے پاس ٹائم نہیں ہوگا۔ تیرا وجود ہوگا، لیکن وہ وجود تو توانائی (energy) سے خالی ہوگا۔ صبح اور شام آتے جاتے رہیں گے، لیکن ان کو اویل (avail) کرنا تمہارے لیے ممکن نہ ہوگا۔ لوگوں کے اندر تمہاری یاد ہوگی، یہ یادتم کو ڈھونڈے گی، لیکن وہ تم کو نہیں پائے گی۔ تیرے منصوبے پورا ہونے سے پہلے ختم ہو جائیں گے۔ یہ وقت تمہارے اوپر آنے والا ہے۔ وہ ہر حال میں تمہارے اوپر آ کر رہے گا۔ مگر نہ تم وقت کو پاؤ گے، اور نہ وقت تمہارا انتظار کرنے کے لیے موجود ہوگا۔ اردو کے قدیم شاعر میر حسن (1786-1717) نے بہت پہلے کہا تھا : گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں یہ تجربہ جس طرح دوسروں کے اوپر گزرا، اسی طرح وہ تمہارے اوپر بھی گزرنے والا ہے۔ وقت کو استعمال کرلو، اس سے پہلے کہ وقت تمہارے استعمال کے لیے موجود نہ رہے۔ وقت کے پیچھے دوڑو، کیوں کہ وقت تمہارے پیچھے دوڑنے والا نہیں ہے۔ تمہارے پیچھے زندگی ہے، لیکن تمہارے آگے موت ہے۔

وقت کی اہمیت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ، فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَفْعَلُ ( مسند احمد، حدیث نمبر 12981)۔ یعنی انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اگر قیامت آ جائے، اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں ایک پودا ہو، اور اگر اس کو موقع ہو کہ وہ اس کو زمین میں لگا دے تو وہ ضرور ایسا کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page