طاقت، بے طاقتی
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۱۸
طاقت، بے طاقتی
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنُكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ أَفَلَا يَعْقِلُونَ (36:68)۔ یعنی اور ہم جس کی عمر زیادہ کر دیتے ہیں، اس کو اس کی پیدائش میں پیچھے لوٹا دیتے ہیں تو کیا وہ سمجھتے نہیں۔ خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسان کا معاملہ یہ ہے کہ پیدا ہونے کے بعد انسان کا کاؤنٹ اپ (count-up) ہوتا ہے ۔ بچپن، نو جوانی، جوانی، وغیرہ مراحل سے گزار کر وہ پختہ عمر تک پہنچتا ہے۔ پھر اس کا کاؤنٹ ڈاؤن (countdown) شروع ہوتا ہے۔ وہ طاقت سے بے طاقتی کی طرف اور جوانی سے بڑھاپے کی طرف سفر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا حال وہ ہو جاتا ہے، جس کی تصویر اس آیت میں بتائی گئی ہے: ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمْرِ لِكَيْلا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا (22:5)۔ یعنی پھر ہم تم کو بچہ بنا کر باہر لاتے ہیں۔ پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی تک پہنچ جاؤ۔ اور تم میں سے کوئی شخص پہلے ہی مر جاتا ہے اور کوئی شخص بدترین عمر تک پہنچادیا جاتا ہے تا کہ وہ جان لینے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ بچپن اور جوانی اور بڑھاپے میں انسان کے لیے سبق ہے۔ مگر انسان کی حالت یہ ہے کہ اس کو آنکھ اور ہاتھ پاؤں اور دوسری صلاحیتیں جو حاصل ہیں، ان کو پاکروہ سرکش بن جاتا ہے۔ حالانکہ اگر وہ سوچے تو یہی واقعہ اس کی نصیحت کے لیے کافی ہو جائے کہ یہ صلاحیتیں اس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں ہیں بلکہ خالق کے دینے سے اس کو ملی ہیں، اور جب دینے والا کوئی اور ہو تو اس نے جس طرح دیا ہے اسی طرح وہ ان کو واپس لے سکتا ہے۔
مزید یہ کہ بڑھاپے کی صورت میں اس امکان کی ایک جھلک عملاً بھی لوگوں کو دکھائی جا رہی ہے۔ آدمی جب زیادہ بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی تمام طاقتیں بھی چھن جاتی ہیں۔ حتی کہ وہ دوبارہ ویساہی کمزور اور محتاج ہو جاتا ہے، جیسا کہ وہ اس وقت تھا جب کہ وہ ایک چھوٹا بچہ تھا۔ مگر انسان اتنا نادان ہے کہ اس کے باوجود وہ کوئی سبق نہیں لیتا۔ (9 ستمبر 2019)