Al-Risala · May 2020 · page 23

بڑھاپے سے سبق لینا

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۲۳

بڑھاپے سے سبق لینا

انسانی زندگی کا ایک ظاہرہ وہ ہے جس کو بڑھاپا کہا جاتا ہے۔ بڑھاپا کوئی غیر مطلوب چیز نہیں۔ بڑھاپے کی عمر میں انسان کے لئے ایک موقع موجود ہوتا ہے، یعنی نصیحت لینا ۔ قرآن کی سورہ الفاطر میں یہ بات ان الفاظ میں آئی ہے : اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ یعنی کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا۔ انسان اس دنیا میں محدود عمر کے لئے پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ پیدا ہوتے ہی انسان کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جاتا ہے۔

انسان کا آخری انجام موت ہے، اور بڑھاپا اس انجام کا آخری وارننگ کال۔ تقریبا 35 سال تک اس کا گراف اوپر کی طرف جاتا ہے ۔ اس کے بعد وہ نیچے جانا شروع ہوتا ہے۔ ادھیڑ عمر ، بڑھاپا، آخر میں موت۔ اس درمیان میں اس کو مختلف قسم کے نقصان پیش آتے ہیں۔ مثلاً بیماری، حادثہ، طرح طرح کے مسائل، وغیرہ۔ اس طرح آدمی سے ایک ایک چیز چھنتی رہتی ہے۔ پہلے جوانی، پھر صحت، پھر سکون، وغیرہ ۔ یہاں تک کہ موت کا وقت آتا ہے۔ اس لمحہ آدمی کی ہر وہ چیز، جس کو وہ اپنا سمجھتا تھا، یہاں تک کہ اس کا اپنا جسمانی وجود بھی اس سے چھن جاتا ہے ۔ اس کے بعد جو چیز باقی رہتی ہے وہ صرف انا (ego) ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

موت کا تجربہ کسی انسان کے لئے سب سے زیادہ سنگین تجربہ ہے۔ اس تجربہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے قبل از موت مرحلہ حیات میں جو کمایا تھا وہ اس سے ابدی طور پر چھن گیا۔ اس کے آگے بعد از موت مرحلہ حیات کا معاملہ ہے، موجودہ دنیا انسان کا آج ہے اور آخرت کی دنیا اس کا کل ہے۔ اس دوسرے مرحلہ میں آدمی کو صرف وہ چیز کام آئے گی، جو اس نے عمل صالح کی صورت میں اپنے آگے کے لئے بھیجی۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : يَايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (59:18)۔ یعنی اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ۔ بڑھاپا براے سبق ہے، بڑھاپا برائے شکایت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page