Al-Risala · May 2020 · page 22

بڑھاپے کا تجربہ

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۲۲

بڑھاپے کا تجربہ

قرآن میں تین مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ موت کا ذائقہ چکھے (آل عمران، 185؛ الانبیاء، 21: 35، العنکبوت، 29: 57)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو ضرور موت کا تجربہ پیش آنے والا ہے۔ موت سے پہلے انسان پر بڑھاپا آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑھاپا انسان کے لیے زندگی کا صرف ایک واقعہ نہیں ہے، بلکہ بڑھاپا انسان کے لیے موت کا ایک پیشگی تجربہ ہے۔

بڑھاپا اس لیے آتا ہے کہ انسان تجربے کی صورت میں موت کی حقیقت کو جان لے۔ تا کہ وہ موت کے بعد پیش آنے والے دورِ حیات کی پیشگی تیاری کرلے۔ موت بہر حال ہر انسان کے لیے آتی ہے۔ مگر بڑھاپا انسان کے لیے ایک چیتاونی ہے، تا کہ وہ موت سے پہلے موت کے بعد والے حالات کی تیاری کرلے۔

ہر انسان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، یعنی ہر انسان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ موت کا تجربہ کرے ۔ بڑھاپے سے پہلے انسان کے لیے موت ایک خبر ہوتی ہے۔ لیکن بڑھاپا انسان کے لیے موت کا ایک تجربہ بنا رہتا ہے۔ اس لحاظ سے بڑھاپے کا زمانہ گویا فائنل کال (final call) ہے کہ انسان آخرت سے پہلے آخرت کی تیاری کرلے۔ بڑھاپے کا زمانہ آخرت کی تیاری کا آخری زمانہ ہے۔ بڑھاپے کے ساتھ یہ زمانہ ختم ہو جائے گا، اور انسان کو یہ موقع باقی نہ رہے گا کہ انسان آخرت کے لیے مزید تیاری کر سکے۔

موت انسان کے لیے ایک دورِ حیات کی پیشگی خبر ہے۔ موت سے پہلے انسان زندگی قبل از موت کا تجربہ کرتا ہے۔ موت انسان کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ موت کے بعد آنے والے دورِ آخرت کے لیے اپنے آپ کو پیشگی طور پر تیار کر لے۔ وہ اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے تیار کر لے کہ آخرت کا زمانہ اچانک آجائے، اور اس کے لیے اس نے اپنی تیاری نہ کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page