موت کا انتظار
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۳۰
موت کا انتظار
زندگی ہر انسان کے لیے ایک انتظار ہے۔ یہ انتظار کاؤنٹ ڈاؤن کی تکمیل کا انتظار ہے۔ ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ متعین عمر کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ پیدا ہوتے ہی ہر انسان کا کاؤنٹ ڈاؤن ٹائمر (countdown timer) بھی چلنے لگتا ہے۔ مثلاً ایک شخص یکم جنوری 1901 کو پیدا ہوا ہے، اور اس کی عمر 70 سال لکھی ہوئی ہے تو کاؤنٹ ڈاؤن کا مطلب یہ ہے کہ ہر دن اس کی عمر میں ایک دن کم ہورہا ہے۔ مثلاً پیدا ہونے کے بعد پہلے دن اگر اس کی عمر 70 سال تھی تو اگلے سال اس کی عمر میں سے 69 سال باقی رہیں گے، پھر اس کے بعد والے سال اس کی عمر میں سے دو سال کم ہو کر 68 سال باقی رہیں گے، اور سلسلہ چلتا رہے گا۔ یہاں تک کہ اس کی طبعی عمر ختم ہو جائے گی۔ موت ہر آدمی کا پیچھا کر رہی ہے۔ ہر روز انسان کی عمر کا ایک دن کم ہو جاتا ہے۔ تاہم بچپن اور جوانی کی عمر میں وہ اس سے غافل رہتا ہے۔ بالآخر قانون فطرت غالب آتا ہے۔ بڑھاپے میں جب اس کی طاقتیں گھٹ جاتی ہیں، تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب بہر حال کچھ دنوں کے بعد وہ مر جائے گا۔ اس وقت وہ مجبور ہوتا ہے کہ سوچے کہ مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ اسے تلاش ہوتی ہے کہ وہ کوئی امید کی کرن پالے، جو موت کے بعد آنے والے حالات میں اس کو روشنی دے سکے۔ بڑھاپا ہر آدمی کے لیے اس بات کی خبر ہوتا ہے کہ موت قریب آگئی۔ اس کے بعد جب اس کو بیماریاں لگتی ہیں تو وہ آدمی کو مزید جھنجھوڑنے کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ اس لیے ہوتی ہیں کہ آدمی اگر سو رہا ہے تو وہ جاگ جائے۔ اور اگر وہ جاگ گیا ہے تو وہ اٹھ جائے، اور اگر وہ اٹھ گیا ہے تو وہ چلنے لگے۔ بڑھاپا اور بڑھاپے میں آنے والی کمزوری اور بیماری ہمیشہ اس لیے آتی ہے کہ آدمی الرٹ ہوجائے۔ وہ موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے لگے۔ وہ موت کے بعد آنے والے حالات پر سوچے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی آخری منصوبہ بندی کرے۔ لیکن انسان واقعات سے سبق نہیں لیتا۔ بڑھاپا اور بیماری اُس کو موت کی خبر دیتے ہیں، لیکن وہ موت کے بارے میں سوچنے کے بجائے