موت کا انتظار
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۳۱
صرف علاج کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے پیچھے دوڑتا ہے، یہاں تک کہ وہ ناامیدی کے ساتھ مر جاتا ہے۔ دوبارہ جو چیز اس کو ملتی ہے، وہ تندرستی نہیں ہے، بلکہ موت ہے۔ کاؤنٹ ڈاؤن کا یہ پراسس ہر آدمی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہر دن جب سورج غروب ہوتا ہے تو عملاً وہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اب آپ کی عمر کا ایک دن کم ہو چکا ہے۔ کم ہوتے ہوتے، وہ لمحہ آجاتا ہے، جب کہ آپ کے پاس صرف ایک دن باقی رہتا ہے، اس باقی ماندہ ایک دن کو یا تو آپ استعمال کر لیجیے، یا اس بات کا انتظار کیجیے کہ وہ آخری دن آپ کی موت کا فیصلہ کن دن بن جائے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر آدمی روزانہ اپنے آس پاس کے ماحول میں دیکھتا ہے، لیکن کوئی آدمی اُس سے سبق نہیں لیتا۔ اس معاملے میں ہر آدمی اندھا بنا ہوا ہے۔ وہ صرف اس انتظار میں ہے کہ موت اس کی آنکھ کھولے۔ لیکن موت کے بعد آنکھ کا کھلنا، کسی عورت یا مرد کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ زندگی کا یہ تصور بلا شبہ ایک لرزا دینے والا تصور ہے۔ کیوں کہ آپ کی عمر کا آخری دن بھی جب ختم ہو جائے تو اس کے بعد آپ خالی ہاتھ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کے پاس اپنا کچھ باقی نہیں رہتا۔ کاؤنٹ ڈاؤن کا آخری دن یاد دلاتا ہے کہ اب وہ آخری لمحہ آگیا، جب کہ آپ بالکل اکیلے ہو جائیں گے۔ جب کہ ایک طرف آپ ہوں، اور دوسری طرف رب العالمين ہو۔
قرآن میں اس دن کے بارے میں آیا ہے: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (83:6) ۔ یعنی کاؤنٹ ڈاؤن کے ختم ہوتے ہی آدمی اپنے آپ کو اس ہستی کے سامنے پائے گا، جو اس کا خالق بھی ہے، اور اسی کے ساتھ اس کا محاسب بھی۔ آدمی کو اگر کاؤنٹ ڈاؤن (countdown) کے اٹل قانون کا سچا احساس ہو جائے تو اس کی زندگی مکمل طور پر بدل جائے گی، وہ قیامت کے آنے سے پہلے اپنے آپ کو قیامت میں کھڑا ہوا پانے لگے گا۔
صاحب ایجنسی اور سبسکرائبر حضرات متوجہ ہوں
اپنے ذمہ واجب الادا رقم یا تجدید خریداری کی رقم ارسال کرنے کے بعد ادارے کو درج ذیل موبائل نمبر پر ضرور مطلع کریں، تاکہ آپ کی رقم آپ کے اکاؤنٹ میں اپ ڈیٹ کی جاسکے۔ (ادارہ)