Al-Risala · May 2020 · page 33

حسرت کا دن

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۳۳

حسرت کا دن

آخرت کا دن تمام انسانوں کے لیے، بالفاظ دیگر پوری انسانی تاریخ کے لیے فیصلے کا دن ہوگا۔ اس دن موقع گنوانے والے کے ساتھ کیا پیش آئے گا، اس کا ذکر قرآن کئی مقام پر آیا ہے۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے : كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ (2:167)۔ یعنی اس طرح اللہ ان کے اعمال کو انھیں حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ آگ سے نکل نہ سکیں گے۔ دوسری آیت یہ ہے : وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (19:39)۔ یعنی اور ان لوگوں کو اس حسرت کے دن سے ڈرا دو جب معاملے کا فیصلہ کر دیا جائے گا، اور وہ غفلت میں ہیں۔ اور وہ ایمان نہیں لا رہے ہیں۔

یوم حسرت سے مراد ہے day of regret۔ آخرت کے دن انسان اس بات پر بے پناہ حسرت کرے گا کہ آہ، اس کو خالق نے کیسا اعلیٰ موقع دیا تھا، لیکن اس نے اس موقع کو اویل (avail) نہیں کیا۔ آخرت میں یہ حسرت انسان کے لیے حسرت کی آگ بن جائے گی۔ وہ محرومی کے شدید احساس کے ساتھ سوچے گا کہ کیسا عجیب موقع تھا، جو اس سے کھویا گیا۔ آدمی اپنی گزری ہوئی زندگی کو حسرت کے ساتھ دیکھے گا، اور کچھ نہ کر سکے گا۔

آدمی دنیا میں ناکامی سے دوچار ہوتا ہے تو اس کو موقع ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ نئی زندگی شروع کر سکے۔ اس کے پاس ساتھی اور مددگار ہوتے ہیں جو اس کو سنبھالنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر آخرت کی ناکامی ایسی ناکامی ہے، جس کے بعد دوبارہ سنبھلنے کا کوئی امکان نہیں۔ کیسا عجیب حسرت کا لمحہ ہوگا جب آدمی یہ جانے گا کہ وہ سب کچھ کر سکتا تھا۔ مگر اس نے نہیں کیا۔ یہاں تک کہ کرنے کا وقت ہی ختم ہوگیا۔ حسرت (regret) بھی ایک آگ کی مانند ہے۔ جس طرح معروف آگ مادی آگ ہے۔ اسی طرح حسرت نفسیاتی آگ ہے۔ حسرت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو شدید احساس ہو کہ آہ کیسا قیمتی موقع تھا، جو اس سے کھویا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page