موت کا تجربہ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۳۲
موت کا تجربہ
قرآن میں آیا ہے : كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185) ۔ یعنی ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ ذائقہ سے مراد تجربہ (experience) ہے ، یعنی ہر انسان جو پیدا ہوا ہے، اس کو لازماً موت کا تجربہ پیش آنے والا ہے۔ پیدائش بھی ایک تجربہ ہے، اور موت بھی ایک تجربہ۔ کامیاب انسان وہ ہے، جو ان دونوں تجربات سے سبق لے۔ جوان تجربات کو اپنے لیے سبق میں ڈھال سکے۔ زندگی کو جاننے والا شخص وہ ہے، جو زندگی کو ایک موقع کی صورت میں دریافت کرے، اور پھر منصوبہ بند انداز میں اس موقع کو استعمال کرے ۔ یہی انسان کامیاب انسان ہے۔ ایسے انسان کے لیے زندگی بھی بامعنی ہے، اور موت بھی بامعنی۔ اس کے برعکس کیس، اس انسان کا کیس ہے، جو دنیا میں اس طرح جئے کہ وہ زندگی کی حقیقت سے بے خبر ہو، اور موت کی حقیقت سے بھی بے خبر رہے۔ جو بے خبری میں جئے، اور بے خبری کی حالت میں مر جائے۔ ایسے انسان کو نہ زندگی سے کچھ ملا، اور نہ وہ موت سے کچھ پانے والا ہے۔ ایسے انسان کے لیے زندگی بھی محرومی ہے، اور موت بھی محرومی۔ زندگی ایک آغاز ہے۔ تاہم موت اس آغاز کا خاتمہ نہیں۔ زندگی ایک کتاب کی مانند ہے۔ ایک انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ گویا کہ اپنی کتاب کو لکھنا شروع کرتا ہے۔ لکھنے کا یہ کام آدمی خود کرتا ہے۔ آدمی کی سوچ، اس کا عمل، اس کا منصوبہ، اس کی آرزوئیں، اس کی تمنائیں، اس کی ناکامی، اور اس کی کامیابی، یہ تمام چیزیں انسان کی خود نوشت سوانح عمری کے ابواب ہیں۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَكُلَّ إِنْسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنْشُورًا ۔ اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا ۔ یعنی ہم نے ہر انسان کی قسمت اس کے گلے کے ساتھ باندھ دی ہے اور ہم قیامت کے روز اس کے لیے ایک رجسٹر نکالیں گے جس کو وہ بالکل کھلا ہوا پائے گا۔ پڑھ اپنی کتاب ۔ آج اپنا حساب لینے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔