Al-Risala · May 2020 · page 38

حقیقت میں جینا

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۳۸

حقیقت میں جینا

آدمی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد مسلسل طور پر وہ زندگی کے تجربات میں جینے لگتا ہے۔ وہ مسلسل طور پر حالت زندگی میں رہتا ہے۔ اس مدت میں اس کو کبھی حالت موت کا تجربہ نہیں ہوتا۔ زندگی اس کے لیے روز مرہ کے تجربے میں آنے والی حقیقت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، موت اس کے لیے ایک سنی سنائی بات ہوتی ہے، جس کا اس نے کبھی حقیقی طور پر تجربہ (experience) نہیں کیا۔

یہ دور جو انسان پر پیدائش کے بعد مسلسل طور پر گزرتا ہے، رات دن کے اس تجربے میں وہ دھیرے دھیرے پوری طرح کنڈیشنڈ ہو جاتا ہے۔ عملاً ایسا ہوتا ہے کہ زندگی اس کے لیے ایک امر حقیقی بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس، موت شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کو ایک بعید تصور کی طرح معلوم ہونے لگتا ہے۔

زندگی اور موت کے درمیان یہی وہ فرق ہے، جس کی بنا پر انسان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ زندگی کو ایک حقیقت سمجھ لیتا ہے، اور موت اس کے لیے ایک دور کی بات کی مانند ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی زندگی کی تمام سرگرمیاں حیات رخی (life-oriented) بن جاتی ہیں، نہ کہ موت رخی (death-oriented)۔ زندگی اس کے لیے ایک واقعہ ہوتی ہے، اور موت اس کے لیے ایک دور کا عقیدہ۔

یہ صورت بلاشبہ امر واقعہ کے خلاف ہے۔ لیکن چوں کہ یہ عقیدہ اس کے لیے کنڈیشننگ کا مستقل پارٹ بن جاتا ہے۔ اس لیے اس سے باہر آنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی اپنی کنڈیشننگ کو توڑے، وہ اپنے آپ کو ایک ڈی کنڈیشنڈ انسان بنائے۔ موت کے بارے میں بے خبری میں جینا امر واقعہ کے خلاف جینا ہے۔ ایسا جینا ابدی نہیں ہو سکتا۔ وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ یہ کنڈیشننگ ٹوٹے، اور انسان کو کسی تیاری کے بغیر موت کی حقیقت کا سامنا کرنا پڑے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page