Al-Risala · May 2020 · page 39

عالمی لائبریری

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۳۹

عالمی لائبریری

لوگ مشہور انسانوں کی سوانح عمری لکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان ایک کتاب ہے۔ انسانوں کا مجموعہ ایک عالمی کتب خانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی ایک عظیم کتاب ہے۔ ہر انسان کی زندگی واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں ایسے تجربات ہوتے ہیں، جو دوسرے انسان کی زندگی میں نہیں ہوتے ہیں۔ گویا کہ ہر انسان اپنے ساتھ ایک پوری لائبریری لیے ہوئے ہے۔ ہر انسان اپنے ساتھ ایک مکمل کتب خانہ لیے ہوئے ہے۔ یہ کتب خانہ لکھا ہوا نہ ہو، تب بھی وہ کائنات کے ریکارڈ میں پوری طرح محفوظ ہے۔

قیامت وہ دن ہے، جب کہ ہر انسان کی لکھی یا بغیر لکھی کتابیں، کھل کر سامنے آجائیں گی۔ اس وقت ہر انسان یہ جانے گا کہ اس نے اپنی زندگی میں کیا کھویا، اور کیا پایا۔ اس نے کس موقع کو اويل کیا، اور کس موقع کو ضائع کر دیا۔ ہر انسان کا یہ کارنامہ حیات ایک زندہ کتب خانے کی حیثیت سے اس کے سامنے آجائے گا۔ انسان، چاہے یا نہ چاہے، اس کی اپنی پوری زندگی کا ریکارڈ اس کے سامنے آجائے گا۔ انسان مجبور ہوگا کہ وہ اپنی لکھی ہوئی کتاب کو پڑھے۔

انسان کی یہ خود نوشت سوانح حیات اس کی اپنی قابل فہم زبان میں ہوگی۔ اس صورت حال کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہوگا کہ کوئی بھی انسان اس پوزیشن میں نہ ہوگا کہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو ری رائٹ (re-write) کرے۔ کسی کو یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کا دوبارہ لکھا ہوا ایڈیشن تیار کرے۔ اس سوانح عمری کا پہلا ایڈیشن لکھنا، ہر انسان کے بس میں ہوگا، لیکن اس کہانی کا ریواِئز ڈ ایڈیشن (revised edition) تیار کرنا کسی انسان کے بس میں نہ ہوگا۔ کوئی بھی عورت یا مرد اس پر قادر نہ ہوگا کہ وہ اپنی سوانح حیات کا حسب خواہش ایڈیشن تیار کرے، جس کو وہ خود پڑھے، اور دوسروں کو پڑھنے کے لیے دے۔ یہ ہر انسان کا مقدر ہے۔ یہ مقدر بہر حال اس کے سامنے آنے والا ہے۔ آدمی نہ چاہے تب بھی، اور چاہے تب بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page