ری پلاننگ کا موقع
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۴۱
ری پلاننگ کا موقع
ہر آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو اسی وقت اس کا ایک نیا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سفر زندگی سے موت کی طرف سفر ہے۔ یہ سفر دنیا سے آخرت کی طرف سفر ہے۔ یہ سفر ہر حال میں جاری رہتا ہے، خواہ انسان اس کو چاہے یا نہ چاہے، خواہ انسان اس کو جانتا ہو، یا اس کو نہ جانتا ہو۔ موت سے پہلے آدمی اس واقعے کو خبر کے طور پر جانتا ہے، موت کے بعد آدمی اس کو ایک حقیقت کے طور پر جانے گا۔ موت کے معاملے میں سب سے زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ موت ہمیشہ پوائنٹ آف نو رٹرن کی سطح پر آتی ہے۔ موت کسی آدمی کو یہ موقع نہیں دیتی کہ وہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹے ۔ موت سے پہلے اس نے جو کچھ نہیں کیا، اس کو موت کے بعد کرنے والا بن جائے۔ موت کے بعد کسی آدمی کے ساتھ کیا پیش آتا ہے، اس کو کوئی نہیں جانتا۔ زندہ انسان یہ تو دیکھتا ہے کہ ایک شخص ان سے چھوٹ کر جا رہا ہے، مگر وہ جہاں جاتا ہے، اس کی کوئی خبر وہ وہاں سے نہیں بھیجتا۔ موت کسی آدمی کے لیے مکمل انقطاع کا لمحہ ہے۔ موت کسی آدمی کو یہ موقع نہیں دیتی کہ وہ اپنی زندگی کی ری پلاننگ کرے، یا جو کچھ اس نے کھودیا، اس کو وہ دوبارہ پانے کی کوشش کرے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے کرنے کا کام کیا ہے۔ وہ صرف یہ ہے کہ انسان موت سے پہلے یہ تلاش کرے کہ موت کے بعد کی خبر اگر کہیں ہے تو وہ کہاں ہے۔ آدمی اگر سنجیدہ ہو، اور وہ کھلے ذہن کے ساتھ جاننا چاہے تو وہ اس حقیقت تک پہنچے گا کہ موت کے بعد اگر کوئی مقام ہے، جہاں اس کو موت کے بارے میں خبر مل سکتی ہے تو وہ صرف قرآن ہے۔ قرآن کے سوا کوئی اور ذریعہ نہیں، جہاں وہ اعتماد کے ساتھ اس موضوع (subject) پر قابلِ یقین معلومات حاصل کر سکے۔ اس متلاشی ذہن کے ساتھ اگر قرآن کو پڑھا جائے تو انسان حسب ذیل جواب پائے گا۔ موت سے پہلے زندگی کا جو لمحہ تم کو ملا ہے، اس کو استعمال کرنے میں کوتاہی نہ کرو۔ کیوں کہ تمھارے لیے یہی لمحہ ہے، اس کے بعد کوئی لمحہ تم کو ملنے والا نہیں۔