Al-Risala · May 2020 · page 42

زندگی کا مسئلہ

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۴۲

زندگی کا مسئلہ

زندگی اپنی حقیقت کے اعتبار سے موت کا انتظار ہے، اور موت اپنی حقیقت کے اعتبار سے زندگی کے دوسرے دور کا آغاز ۔ زندگی کا یہ آغاز اور انجام انسان کو ہر لمحہ یاد دلاتا ہے کہ اس کے لیے رائٹ ٹریک (right track) پر چلنا کیا ہے، اور رائٹ ٹریک سے بھٹک جانا کیا ہے۔ غور و فکر سے زندگی اور موت کا جو درست نقطہ نظر سمجھ میں آتا ہے، وہ یہ ہے کہ پیدائش سے موت تک کی زندگی تیاری کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کی زندگی تیاری کے انجام کو پانے کا مرحلہ ہے۔ انسان اپنے موجودہ دور حیات میں ہر وقت انسانوں کے درمیان رہتا ہے۔ خواہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو، یا گھر کے باہر۔ ہر حال میں وہ مردوں اور عورتوں کے درمیان ہے۔ اس دور حیات میں ہر وقت اس کو کسی نہ کسی عورت یا مرد سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اس سے لوگوں کے درمیان انسانی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ یہی تعلقات انسان کے لیے فیصلہ کن ہیں۔ ان تعلقات کے درمیان آدمی روزانہ جس سلوک(behaviour) کا مظاہرہ کرتا ہے، اسی سے اس کی زندگی کا ریکارڈ تیار ہوتا ہے۔ اسی سلوک کے مطابق، اس کی شخصیت(personality) بنتی ہے۔ یہی شخصیت اصل انسان ہے۔ یہی شخصیت اس کا مستقبل ہے۔

ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ دیکھے کہ وہ صبح و شام لوگوں کے درمیان جس سلوک کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ کیسا ہے۔ وہ تعمیری ہے یا تخریبی، وہ مثبت ہے یا منفی، وہ سچائی پر قائم ہے یا جھوٹ پر۔ اس اندر جو شخصیت بن رہی ہے، وہ ایک دینے والی شخصیت (giver personality) ہے، یا لینے والی شخصیت (taker personality)۔ اس کی پرسنلٹی خیر خواہی پر مبنی پرسنلٹی ہے، یا استحصال (exploitation) پر مبنی پرسنلٹی۔ کامیاب انسان وہ ہے، جو زندگی کی اس نوعیت کو سمجھے، اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔ زندگی کے اس سفر میں کامیابی کی یہ لازمی شرط ہے کہ آدمی پوری طرح معرفت والا انسان ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page