حصائدِ لسان
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۴۶
ہے۔ خالق ہر انسان کو مختلف قسم کی صلاحیتیں دے کر دنیا میں بھیجتا ہے۔ تاکہ وہ اپنا مطلوب رول اعلیٰ درجے میں ادا کر سکے۔ ہر انسان پر لازمًا موت آتی ہے۔ موت کے بعد ہر انسان اپنے خالق کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اسی سوچ کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اپنے بارے میں یہ دریافت کرنا ہے کہ وہ کون سا رول ادا کرنے کے لیے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے، اور کیا وہ اس رول کو دنیا میں ادا کر رہا ہے یا نہیں۔ یہی ہر انسان کا امتحان ہے۔ جو اس امتحان میں پورا اترے، وہ کامیاب ہے، اور جو اس امتحان میں پورا نہ اترے، وہ ناکام ہے۔
پھر مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی: کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ ذائقہ سے مراد موت کا تجربہ ہے۔ موت کا تجربہ ہر آدمی کے لیے ایک سبق ہے۔ اس دنیا کے لیے صرف بقدرِ ضرورت حاصل کرو، اور ساری کوشش اُس دنیا کی تعمیر کے لیے کرو، جہاں تم کو ہمیشہ کے لیے رہنا ہے۔ موت کی یاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے عمل کا محرک (incentive) ختم ہو جاتا ہے۔ جو لوگ صرف قبل از موت زندگی کو مانتے ہوں، ان کے لیے یہ بات درست ہو سکتی ہے، لیکن جو لوگ اس حقیقت کو مانیں کہ موت کے بعد بھی زندگی ہے، اور وہ ابدی زندگی ہے، ان کے لیے عمل کا محرک بڑھ جاتا ہے، اتنا زیادہ کہ کسی اور چیز سے اتنا زیادہ بڑھنے والا نہیں۔ اگر آدمی اس حقیقت کو دریافت کر لے کہ موت کے بعد انسان کی ابدی زندگی شروع ہوتی ہے تو وہ یقیناً چاہے گا کہ وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی کو کامیاب بنائے، اور یہ ماننا بلا شبہ عمل کے محرک کو بے شمار گنا زیادہ کر دیتا ہے۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ میری دعا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ مرحوم کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آپ کے گھر میں ان کے جانے سے جو کمی واقع ہوئی ہے، خدا اس کی بھر پور تلافی فرمائے۔ آمین نئی دہلی 13 فروری 2020 دعا گو وحید الدین