زحمت میں رحمت
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۴۸
لیکن جب ایک سچا انسان بیماری یا نقصان میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے۔ اُس کے اندر دردمندی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے بندہ ہونے کی حقیقت کا تجربہ کرتا ہے۔ اس طرح بیماری اُس کو دوسری چیزوں سے دور کر کے اللہ سے قریب کر دیتی ہے۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے۔ اُس کے دل سے دعائیں اور التجائیں نکلنے لگتی ہیں۔ بیماری اُس کے لیے اللہ سے قربت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس طرح بیماری ایک سنجیدہ انسان کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا معاملہ بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا تمام معاملہ سوچ پر مبنی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کبھی بیماری یا مصیبت پیش آنے پر شکایت یا مایوسی کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ بلکہ جب بھی کوئی ناخوشگوار صورت حال پیش آئے تو وہ معتدل ذہن کے ساتھ اس پر غور کرے ۔ وہ منفی واقعے میں مثبت واقعہ کو دریافت کرنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کو قانونِ فطرت کی تائید حاصل ہوگی ۔ وہ منفی واقعے میں مثبت پہلو کو دریافت کرلے گا، اور اس طرح وہ اپنے آپ کو مایوسی سے بچانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مایوسی ایک غیر فطری چیز ہے، وہ کوئی فطری چیز نہیں۔ مثلاً بیماری بظاہر ایک انسان کے لیے غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن اگر ربانی ذہن ہو تو جسمانی بیماری آدمی کے لیے روحانی صحت کا ذریعہ بن جائے گی۔ اس دنیا میں اصل اہمیت ذہنی بیداری کی ہے۔ بیدار ذہن ہی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ واقعات سے سبق لے، اور ذہن کو بیدار کرنے والی سب سے بڑی چیز اس دنیا میں صرف ایک ہے، اور وہ مشکل حالات ہیں۔
زندگی کی اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: (ترجمہ) ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پیداوار کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں، اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں، اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔ (157-2:155)