ورچول ملاقات
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۵۰
ورچول ملاقات
ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَالْمُتَزَاوِرِینَ فِيَّ (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 1449)۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے کہا: میری محبت واجب ہے، ان انسانوں کے لیے جو میری خاطر محبت کرنے والے ہیں، اور میری خاطر ایک دوسرے سے ملنے جلنے والے ہیں۔ اس حدیث میں محبت کا مطلب مادی محبت نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے اللہ کے مشن کے لیے ایک دوسرے سے ملنا جلنا۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ کے مشن کی خاطر باہم اکٹھے ہوں۔ جن کی مشن اسپرٹ اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ مشن کا ہر فرد اُن کے لیے ایک محبوب ساتھی بن جائے۔ اگر ایسے کچھ افراد اکٹھے ہوجائیں، تو وہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ اللہ ان سے محبت کرے مگر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ انسان ہم مشن ہونے کے باوجود بعض اوقات کسی وجہ سے اکٹھا نہیں ہو پاتے۔ مثلاً کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم مشن انسان مانگریشن کر کے مختلف علاقوں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح آج کل کورونا وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے، جس نے لوگوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ سماجی دوری (social distancing) کو بطور علاج اختیار کریں۔ اس قسم کے موقع پر کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ بالمواجہہ ملاقات (face-to-face meeting) کر کے باہمی انٹرایکشن کرے۔ اس وقت جو ملاقات ممکن ہے، وہ ہے الیکٹرانک ملاقات۔
الیکٹرانک ملاقات کا طریقہ موجودہ زمانے کا ظاہرہ ہے، یہ طریقہ قدیم زمانے میں موجود نہیں تھا۔ اس کو ورچول میٹنگ (virtual meeting) کہا جاتا ہے۔ یعنی دنیا کے مختلف علاقوں میں بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے ویڈیو یا آڈیو یا تحریر کا طریقہ اختیار کر کے آپس میں ایک دوسرے سے ڈسکشن کرنا۔ ورچول ملاقات موجودہ زمانے میں براہ راست مصاحبت کا بدل ہے۔ الیکٹرانک ملاقات بھی، اگر مشن کے لیے ہو تو عملاً اللہ کی خاطر محبت کرنا، اور اللہ کی خاطر اکٹھا ہونا ہے۔ سماجی دوری کے موقع پر صاحب مشن افراد کو اس سہولت سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔