اختلاف کو نظر انداز کیجیے
الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۳
پر ہونے لگی۔ اسی کا نتیجہ آخر کار وہ نکلا جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنْ الْهُدَى (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1763)۔ یعنی ان کی مسجدیں آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی۔ یہی معاملہ اداروں کے ذمہ داران سے اختلاف کا ہے۔ اگر اس قسم کے معاملے کا آپ تجزیہ کیجئے تو آپ پائیں گے کہ یہ سارے اختلافات فروعی چیزوں میں ہیں، نہ کہ اصولی چیزوں میں۔ جب کہ اتحاد صرف اصولی مسائل میں ممکن ہے، فروعی مسائل میں ممکن ہی نہیں۔ اس معاملے پر شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم یہ دیکھیں کہ اسلام کے دور اول میں جب خروج علی الحاکم کا مسئلہ پیدا ہوا، تو علمائے اسلام نے اس پر کیا رویہ اختیار کیا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، اس پر علما کا یہ اجماع ہو گیا کہ حاکم کے خلاف خروج کرنا، جائز نہیں ہے۔ چنانچہ امام نووی نے لکھا ہے: وَأَمَّا الْخُرُوجُ عَلَيْهِمْ وَقِتَالُهُمْ فَحَرَامٌ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ كَانُوا فَسَقَةً ظَالِمِينَ (شرح النووی علی صحیح مسلم، جلد نمبر 12، صفحہ (229)۔ یعنی حاکم کے خلاف خروج کرنا، مسلمانوں کے اجماع سے حرام ہے، اگرچہ حاکم فاسق و ظالم ہو۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ حاکم کے خلاف خروج نہ کرنا، مطلقاً مطلوب ہے۔ کوئی بھی عذر (excuse) اس معاملے میں خروج کو جائز نہیں کرتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خروج ایک اور چیز سے جڑا ہوا ہے، اور وہ ہے، استحکام (stability)۔ سماجی زندگی میں استحکام مطلق طور پر مطلوب ہے۔ کوئی بھی چیز جو استحکام کو نقصان پہنچائے، وہ بطور اصول قابل ترک ہے۔
قدیم زمانے میں یہ عمل سیاسی حاکم کے مقابلے میں اختیار کیا گیا تھا، موجودہ زمانے میں یہی اصول اس معاملے میں اپلائی ہوتا ہے، جب کہ ادارے کے ذمے دار کے خلاف خروج کا معاملہ ہو۔ کسی کے لیے یہ تو جائز ہے کہ وہ کسی عذر کو لے کر خاموشی کے ساتھ ادارے سے الگ ہو جائے۔ وہ الگ ہونے سے پہلے بھی اس معاملے میں خاموش رہے، اور ادارے سے الگ ہونے کے بعد بھی خاموش رہے۔ ادارے کے خلاف یا ادارے کے ذمے داران کے خلاف شکایتیں کرنا، اور منفی باتیں کر کے لوگوں کے اندر شکایتی ماحول پیدا کرنا، ہر گز جائز نہیں ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues