اختلاف کو نظر انداز کیجیے
الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۲
یہاں تک کہ پوری زندگی شکایت کی نذر ہو جاتی ہے۔
آج علماء صرف جلسوں یا کانفرنسوں میں نظر آتے ہیں، مگر ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو کوئی علمی تحقیق یا علمی یادگار نہیں دے پاتے۔ اس کے بغیر ہی وہ دنیا سے شاکی ہو کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ علماء اپنی اس سوچ کی اصلاح کریں، وہ اپنی لاعلمی کو جانیں ۔ وہ ادارے کی انتظامیہ کی نیتوں پر حملے ترک کریں، اس کے بجائے ان کو چاہیے کہ جو مواقع ان کو حاصل ہیں، ان پر وہ فوکس کریں، اور امت مسلمہ کو فائدہ پہنچائیں۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو) مکتوب نگار نے جو بات لکھی ہے، وہ بلاشبہ درست ہے۔ لیکن راقم الحروف کے نزدیک اس کا سبب ماضی کی تاریخ تک جاتا ہے۔ فقہائے متقدمین اس معاملے میں میرے نزدیک ٹرینڈ سیٹر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فقہائے متقدمین کے زمانے میں مسائل میں اختلافات پیدا ہوئے۔ اس وقت فقہائے متقدمین نے مسائل پر لامتناہی بحثیں چھیڑ دیں۔ یہ بلاشبہ ایک غلو تھا، جس کے نتیجے میں غیر ضروری طور پر فقہی مسالک بنے، اور بڑھتے بڑھتے ان مسائل کی بنیاد پر مختلف قسم کے فقہی گروپ بن گئے۔ فقہ صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے، جو صحابہ کرام کے زمانے میں عملاً موجود تھی۔ بعد کے زمانے میں فقہی بنیاد پر مختلف گروہ بن گئے، مثلاً حنفی فقہ، مالکی فقہ، شافعی فقہ، حنبلی فقہ، جعفری فقہ، وغیرہ ۔ وہ وہی چیز تھی جس کو قرآن میں تفرق في الدین (البقرة : 103 (2) کہا گیا ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشترک امور میں تو حد کا طریقہ اختیار کیا جائے، اور اختلافی امور میں توسع کا طریقہ۔ علمائے فقہ کو اس معاملے میں توسع کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا، جس کی طرف ابن عبدالبر نے اپنی کتاب جامع بیان العلم و فضله (جلد 1، صفحہ (345) میں اشارہ کیا ہے۔ اس اختلافی مسائل میں غلو کے نتیجے میں ایک مبتدعانہ اصول پیدا ہوا، جس کو ترجیح کہتے ہیں۔ ترجیح کا طریقہ، جو علمائے فقہ کے درمیان رایج ہوا، وہ بلاشبہ ایک مبتدعانہ اصول تھا۔ صحیح اصول توسع ہے، نہ کہ ترجیح ۔ عبادات میں اصل زور روح یعنی اسپرٹ پر دینا چاہیے، مگر ترجیح کی اس بحث نے یہ کیا کہ عبادات میں روح عبادت کا مسئلہ عملاً غیر اہم بن گیا، اور ساری بحث مسائل پر ہونے لگی۔ مسائل بالفاظ دیگر فارم
‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues