حکم اللہ کا
الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۶
حکم اللہ کا
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ (12:40)۔ یعنی حکم صرف ایک اللہ کا ہے۔ اس طرح کی آیات میں حکم کا لفظ سیاسی حکم (political rule) کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ فوق الطبیعی حکم (supernatural rule) کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب پولیٹکل سائنس کی کتابوں سے نہیں معلوم ہوگا، بلکہ اس کا مطلب قرآن کی آیتوں میں غور وفکر سے معلوم ہوگا۔ اس طرح کی آیتوں میں حکم کا لفظ اس قانون کے لیے نہیں آیا ہے، جو اسمبلی میں یا پارلیمنٹ میں بنایا جاتا ہے، اور جس کو وزیر قانون یا عدالت کے جج نافذ کرتے ہیں۔ بلکہ اس طرح کی آیتوں میں حکم سے مراد وہ برتر حکم ہے، جو اللہ رب العالمین نے براہ راست طور پر اپنے فرشتوں کے ذریعہ عالم وجود میں نافذ کر رکھا ہے۔ اس حکم سے مراد وہ حکم ہے، جس کو یاد کرنے سے انسان کے اندر شاکر اور عبادت کی اسپرٹ پیدا ہوتی ہے، جو آدمی کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس دنیا میں شکر اور عبادت گزار بن کر زندگی گزارے۔ مثلاً سورج کا نکلنا، آکسیجن کی سپلائی کا نظام، بارش کا نظام، زمین سے غلہ پیدا ہونے کا نظام، ہواؤں کے چلنے کا نظام، زمین پر لائف سپورٹ سسٹم قائم کرنے کا نظام، وغیرہ، اور اس طرح کی بے شمار چیزیں جو اس دنیا میں انسان کو فطرت کے نظام کے تحت حاصل ہیں۔ یہ سب نظام اللہ رب العالمین کے حکم کے تحت وقوع میں آتے ہیں۔ اس حکم کی دریافت کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان اللہ رب العالمین کا شکر ادا کرے، اور اللہ کو اپنا معبود سمجھ کر صرف اسی کی عبادت کرے۔ اگر کوئی شخص اس طرح کی قرآنی آیتوں کو لے کر دنیا میں سیاسی تحریک چلائے، اور حکمرانوں کو قیادت سے بے دخل کرنے کے لیے ان سے لڑائی شروع کر دے تو یہ اس حکم کی تعمیل نہیں ہوگی، بلکہ اس حکم کے نام پر ایک تخریب کاری کی سیاست چلانا ہوگا۔ یہ اللہ کے نام پر ایک باغیانہ فعل کا ارتکاب ہوگا۔ قرآن کی اس طرح کی آیتوں کا کوئی تعلق پولیٹکل اکٹوزم ( political activism) سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تمام تر تعلق اس سے ہے کہ انسان اس دنیا میں شکر اور عبادت
‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues