Al-Risala · February 2020 · page 17

حکم اللہ کا

الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۷

کی زندگی گزارے، وہ دنیا میں رحمن کا بندہ (الفرقان، 74- 25) بن کر زندگی گزارے۔ حکومت کا معاملہ موجودہ دنیا پورے معنوں میں اللہ رب العالمین کی سلطنت ہے۔ دنیا کی ہر چیز کو محدود مدت کے لیے اللہ نے انسان کے چارج میں دے دیا ہے۔ اسی میں سے حکومت کا معاملہ بھی ہے، جس طرح زمین کا زرعی رقبہ (agricultural land) عارضی طور پر انسان کو دیا گیا ہے تا کہ وہ اس کو استعمال کرے، اسی طرح انسان کو یہ موقع بھی عارضی طور پر دیا گیا ہے کہ وہ دنیا میں سولائزیشن بنائے۔ یہ مدت صرف قیامت تک کے لیے ہے۔ قیامت کے بعد انسان کا اختیار ختم ہو جائے گا، اور اس کو اپنے عمل کے مطابق، اس کی جزا یا سزا دی جائے گی۔

یہی معاملہ حکومت کا بھی ہے۔ حکومت دوسری اشیاء سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ حکومت کا اختیار بھی انسان کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ آخر میں انسان کا اس اعتبار سے حساب لیا جائے گا، اور انسان کو اس کے عمل کے مطابق، جزا یا سزا دی جائے گی۔ قرآن میں اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: (ترجمہ) لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اور زمین ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں۔ وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں (39:67)۔

حدیث میں مزید یہ الفاظ آئے ہیں: يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ. ثُمَّ يَطْوِي الْأَرْضِينَ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2788)_ یعنی اللہ تعالی قیامت کے دن آسمان کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں رکھے گا، پھر کہے گا، میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جبار، کہاں ہیں متکبرین، پھر وہ زمین کو اپنے بائیں ہاتھ میں رکھے گا، پھر کہے گا، میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جبار، کہاں ہیں متکبرین - یہ اس وقت ہوگا جب کہ انسان کی آزادی اس دنیا میں ختم ہو جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues

Printed page