Al-Risala · February 2020 · page 21

فکری کنفیوژن

الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۲۱

فکری کنفیوژن

حدیث رسول میں بعد کے زمانہ کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یہ دور فتنہ دہیماء کا دور ہوگا۔ فتنہ دہیماء کا مطلب ہے کالا فتنہ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس زمانہ میں بہت زیادہ اندھیرا (utter darkness) ہوگا۔ یہ اندھیرا مادی روشنی کے اعتبار سے نہیں ہوگا بلکہ اس اعتبار سے ہوگا کہ لوگوں کے لیے سچائی کا راستہ گم ہو جائے گا۔ اس دور کے لیے حدیث میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ اس زمانہ میں اسلام کا صرف نام باقی رہے گا، اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہے گا (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1763)۔

حدیث کی اس پیشین گوئی کو میں نے ایک سفر کے دوران سمجھا۔ اس سفر کے دوران میری ملاقات کچھ تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران کسی نے کہا کہ ہمارے لیے نقطہ آغاز کیا ہے (من این نبدأ)۔ کسی نے کہا کہ ہمارے لیے لائحہ عمل (line of action) کیا ہے۔ گویا کہ لوگ اس امر میں مشتبہ ہو گئے ہیں کہ موجودہ حالات میں کرنے کا صحیح کام کیا ہے۔ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ فقدان اجتہاد (lack of ijtihad) کا مسئلہ ہے۔ موجودہ زمانہ مکمل طور پر ایک بدلا ہوا زمانہ ہے۔ سوچنے کا انداز، کام کرنے کا طریقہ، وقت کے مطابق پلاننگ، رائے قائم کرنے کے پیمانے، سب یکسر طور پر بدل گئے ہیں۔ اب روایتی طریقہ زمانے کے اعتبار سے غیر متعلق (irrelevant) ہو گیا ہے۔ جو چیزیں پہلے مسلمہ سمجھی جاتی تھیں، وہ اب نا قابل قبول بن گئی ہیں۔ ایسی حالت میں جس چیز کی ضرورت ہے وہ فتویٰ کی زبان نہیں ہے کہ لوگوں کو سادہ طور پر امر اور نہی (dos & don'ts) کی فہرست بتادی جائے۔ یہ صورت حال دراصل نئے اجتہاد کی طالب ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام دورِ حاضر میں بے جگہ (misfit) ہو گیا ہے، بلکہ یہ مسائل کور یڈیفائن (redefine) کرنے کا وقت ہے۔ اب ضرورت ہے کہ قرآن وسنت کا از سر نو مطالعہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues

Printed page