فکری کنفیوژن
الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۲۲
کیا جائے۔ اب ضرورت ہے کہ مجتہدانہ ذہن کے تحت اسلام کی از سر نو تطبیق (reapplication) تلاش کی جائے۔ اس سے کم درجہ کی کوئی رہنمائی موجودہ دور میں کافی فہمیں ہوسکتی۔ مثال کے طورپر وطنیت (patriotism) کا تصور پہلے زمانہ میں مذہب سے متعلق سمجھا جاتا تھا۔ مگر موجودہ جمہوری زمانہ میں وہ ایک سیکولر سبجکٹ (subject) بن گیا ہے۔ اس معاملہ میں ضرورت ہے کہ اس معاملہ کو مجتہدانہ ذہن کے ساتھ دیکھا جائے، اور دنیا سے ہم آہنگی اختیار کرتےہوئے وطنیت کو ایک سیکولر سبجکٹ قرار دیا جائے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ہر مقام پر مسلمان بے جگہ (displaced persons) بنے ہوئے ہیں۔
اسی طرح شریعت کے نفاذ کے بارے میں عام طور پر ایک غلط نہی پائی جاتی ہے جو تشدد کا سبب بن رہی ہے۔ اسی نوعیت کی ایک مثال یہ ہے۔ پاکستان کے دوشہروں کوئٹہ اور پاراچنار میں بم دھماکے ہوئے جس میں 43 لوگ مارے گئے اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ اس سلسلہ میں پاکستانی طالبان کے ایک گروپ نے کوئٹہ کے حملہ کی ذمہ داری لیتے ہوئے نیوز ایجنسی کو ایک خط لکھا جس کا ایک جملہ یہ تھا۔ کوئٹہ پر حملے جاری رہیں گے اس وقت تک جب تک کہ سچا شریعت سسٹم پاکستان میں لاگو نہیں ہوگا:
“Our attacks will continue until a true shariah system is enforced in Pakistan”. (The Times of India, June, 24, 2017)
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر یہ سخت خطر ناک غلط فہمی (extremely dangerous misunderstanding) پیدا ہوگئی ہے کہ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ شریعت کے قانون کو وہ دنیا میں نافذ (implement) کریں۔ یہ بلاشبہ ایک بے بنیاد تصور ہے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ انفرادی سطح پر شریعت کے قانون کی پر امن انداز میں پیروی کریں۔ مثلاً قرآن میں آیا ہے کہ أقيموا الصلاة (نماز قائم کرو)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کو اس کی اسپرٹ کے ساتھ ادا کرو، اور نماز والی اسپرٹ کو اپنی پوری زندگی میں قائم کرو۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues