Al-Risala · February 2020 · page 23

اسلام میں جنگ

الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۲۳

اسلام میں جنگ

اسلام میں جنگ سلبی مقصد کے لیے ہے، اسلام میں جنگ ایجابی مقصد کے لیے نہیں۔ یعنی اسلام میں جنگ کسی مانع (obstacle) کو دور کرنے کے لیے ہے، نہ کہ مطلوب (desired) گول کو قائم و نافذ کرنے کے لیے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (8:39)۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے ان کے عمل کا۔

اس آیت میں واضح طور پر جنگ کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ فتنہ عملاً ختم ہو جائے۔ صحابی رسول عبداللہ بن عمر نے فتنہ کو یہاں شرک جارح کے معنی میں لیا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4514)۔ دوسرے لفظوں میں اس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جبر کرنے والے اگر اپنے جبر سے باز آجائیں، اور لوگوں کو مذہب پر آزادانہ عمل کرنے کا موقع دے دیں، تو اس کے بعد ان سے جنگ ختم کر دی جائے گی۔ اس آیت میں یہ حکم نہیں دیا گیا کہ فتنہ کو ختم کر کے عادلانہ حکومت قائم کرو۔ اس تفسیر کا تعلق قرآن کی اس آیت سے نہیں۔ کچھ لوگ خود ساختہ تشریح کے تحت اس آیت کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ فتنہ (شرک) کا نظام ختم کرو، اور عدل (اسلام) کا نظام قائم کرو۔ اس طرح کا مفہوم وہ قرآن کی آیت أَقِيمُوا الدِّينَ (42:13) سے بھی اخذ کرتے ہیں۔ حالاں کہ اس آیت میں دین کی اقامت کا مطلب بذات خود دین کی پیروی کرنا ہے، نہ کہ دین کا مکمل نظام لوگوں کے اوپر عملاً نافذ (enforce) کرنا۔ اسی طرح قرآن میں اعْدِلُوا (المائدة، 5:8) کا حکم آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدل کا نظام لوگوں کے اوپر نافذ کرو، بلکہ اس کا درست مطلب ، صحابی رسول عمار بن یاسر کے الفاظ میں اس طرح ہوگا کہ تمھارا اپنی ذات کے اعتبار سے عدل کرنا (الْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ) ۔ صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب نمبر 18۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues

Printed page