Al-Risala · February 2020 · page 35

زمانہ سے آگے

الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۵

تمدن کی تعمیر کے لیے استعمال کرے۔

آرنلڈ ٹائن بی نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ فطرت پرستی (شرک) کے اس دور کو سب سے پہلے جس نے ختم کیا وہ توحید (Monotheism) ہے۔ توحید کے عقیدے نے پہلی بار انسان کو یہ ذہن دیا کہ فطرت خالق نہیں، بلکہ مخلوق ہے۔ وہ پوجنے کی چیز نہیں، بلکہ استعمال کی چیز ہے۔ اس کے آگے جھکنا نہیں ہے، بلکہ اس کو تسخیر کرنا ہے۔ تاہم جب اس حقیقت کو دیکھا جائے کہ توحید کے نظریہ کو پہلی بار اسلام نے عملی طور پر رائج کیا، تو یہ انقلاب براہ راست اسلام کا کارنامہ قرار پا تا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کے تمام پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آئے۔ ہر دور میں خدا کے جن بندوں نے سچائی کی تبلیغ کی انھوں نے خالص توحید ہی کی تبلیغ کی۔ مگر اسلام سے پہلے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ توحید کے نظریہ کو مان لیں اور توحید کی بنیاد پر انسانی معاشرہ میں وسیع انقلاب برپا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے پہلے انسان کبھی توحید کے حقیقی ثمرات سے آشنا نہ ہوسکا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، خدا کا ہر پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آیا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ صورت پیش آئی کہ ان کے پیرو ان کے لائے ہوئے دین کی حفاظت نہ کر سکے۔ انھوں نے توحید میں شرک کی آمیزش کر دی۔ مثال کے طور پر حضرت مسیح نے خالص توحید کا پیغام دیا، مگر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت مسیح کو خدا سمجھ لیا۔ ان کا یہ مشرکانہ عقیدہ مختلف پہلوؤں سے سائنس کی ترقی کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ مثلاً کچھ علمائے فلکیات نے نظام شمسی کی تحقیق کی۔ وہ اس حقیقت تک پہنچے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر عیسائی علماء ایسے لوگوں کے سخت مخالف ہو گئے۔ اس کی وجہ ان کا مذکورہ مشرکانہ عقیدہ تھا۔ انھوں نے زمین کو خداوند کی جنم بھومی فرض کر رکھا تھا، اس لیے ناقابل فہم ہو گیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظام شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کر دیا۔ دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروں کا مشن صرف اعلان کی حد تک جا سکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues

Printed page