Its advent changed the course of human history.
الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۶
جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں شرک (مظاہر فطرت کی پرستش) کا مکمل خاتمہ کیا، اور توحید کو عملی طور پر انسانی زندگی میں رائج کیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے، اور قدیم زمانہ کی تقریبًا تمام آباد دنیا میں شرک کو مغلوب کر دیا۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے تمام بت خانوں کو غیر آباد کر دیا، اور توحید کو ایک عالمی انقلاب کی حیثیت دے دی۔
اہل اسلام کے ذریعہ توحید کا جو عالمی انقلاب آیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو۔ اب مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹا دیا گیا۔ خدائے واحد انسان کا معبود قرار پایا۔ اس کے علاوہ جو تمام چیزیں ہیں، وہ سب صرف مخلوق بن کر رہ گئیں۔ انسانی تاریخ میں اسلام کے ظہور سے جو عظیم تبدیلی آئی، اس کا اعتراف ایک امریکی انسائیکلو پیڈیا میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ اسلام کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا :
Its advent changed the course of human history.
مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹانے کا نتیجہ ہوا کہ وہ فوراً انسان کے لیے تحقیق اور تسخیر کا موضوع بن گئے۔ مظاہر فطرت کی تحقیق و تسخیر کے فکر کی ابتدا بالواسطہ انداز میں مدینہ میں شروع ہوئی۔ پھر دمشق اور بغداد اس تحقیق و تسخیر کے عملی مرکز بنے۔ اس کے بعد یہ لہر سمندر پار کر کے اسپین اور سسلی میں داخل ہوئی، وہاں سے وہ مزید آگے بڑھ کر اٹلی اور فرانس تک جا پہنچی۔ یہ تاریخی عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ جدید سائنسی انقلاب تک پہنچ گیا۔ مغرب کا سائنسی انقلاب اس اعتبار سے اسلامی انقلاب کا نقطۂ انتہا ہے۔ وہ توحید کے انقلاب کا سیکولر نتیجہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو اسلام سائنس کا بانی تھا، اور جس کے ماننے والے اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا کے لیے سائنس کے معلم بنے، اسی اسلام کے ماننے والے موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں ہو گئے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نےابتداء جو سائنسی انقلاب برپا کیا تھا، وہ اسپین تک پہنچنے کے بعد مغربی قوموں کی طرف منتقل ہو گیا۔ اس کے بعد سائنس کی ترقیاں زیادہ تر اہل
‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues