الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۵۳
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۵۳
قدیم یونانی سوانح نگار اور فلاسفر پلوٹارک (Plutarch) کا ایک قول ہے، جس کا ترجمہ انگریزی زبان میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے :
Courage consists not in hazarding without fear, but in being resolutely minded in a just cause. یعنی ہمت اس کا نام نہیں کہ آدمی کسی مشکل میں بے خطر کود پڑے۔ بلکہ ہمت یہ ہے کہ آدمی ایک صحیح مقصد میں مستقل ارادہ کے ساتھ لگا ہو۔
اکثر لوگ ہمت اور بے جا جوش میں فرق نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ بے جا جوش کے تحت ظاہر ہونے والے واقعہ کو ہمت کا واقعہ سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہمت کے تحت اقدام سوچا سمجھا اقدام ہوتا ہے اور بے جا جوش کے تحت اقدام محض وقتی جذبہ سے بھڑک کر کیا جانے والا اقدام۔ اول الذکر اپنی منزل کی طرف کامیاب سفر ہے، اور ثانی الذکر صرف بربادی کی خندق میں احمقانہ چھلانگ۔
سمندر میں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو دوڑاتی ہیں۔ جنگل میں ہر وقت چھوٹے جانوروں کو بڑے جانوروں کا ڈر لگا رہتا ہے۔ یہی خدا کا نظام ہے۔ اگر مچھلیاں اور جانور خدا سے اس کی شکایت کریں تو خدا کا جواب یہ ہوگا :
میں نے جو سمندر اور جو جنگل بنائے ہیں وہ تو ایسے ہی ہیں۔ اگر تمھیں وہ منظور نہ ہوں تو تم اپنی مرضی کے مطابق دوسرے سمندر اور دوسرے جنگل بنالو۔
یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔ انسانوں کی دنیا میں بھی ہمیشہ یہ مقابلہ (competition) جاری رہا ہے، اور جاری رہے گا۔ اس مقابلہ کی وجہ سے کوئی گرتا ہے، اور کوئی اٹھتا ہے۔ کسی کو جیت ملتی ہے، اور کسی کو ہار۔ انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ اس سے مطابقت کر کے رہے۔ جو لوگ اس کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues