الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۵
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۵
وہ کہتا ہے، "دو چار دن کا سکون چاہتے ہو تو کہیں اور جائو، یہاں تمہیں آرام نہیں مل سکتا۔ " پسندہ رہیں اس سے زیادہ اور کیا مانگتا ہوں بندہ؟ | اس بات کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق نئی دنیا تخلیق کریں۔ خدا کی دنیا میں تو ایسا ہونا ممکن نہیں۔ انسان اس کے عذاب سے ڈرتا ہے اور انسان کے اند ر کی آگ کے آگے انسان کی اعلیٰ ترین تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ وہ دلیل کے آگے جھک جائے ، وہ طاقت کے بغیر محض دلیل کی بنیاد پر حقیقت کا اعتراف کرلے۔
مگر میری زندگی کا سب سے زیادہ تلخ تجربہ یہ ہے کہ آدمی دلیل کے آگے نہیں جھکتا۔ وہ صرف طاقت کے زور کو جانتا ہے، وہ دلیل کے زور کو نہیں جانتا۔ موجودہ دنیا میں آدمی دلیل کا انکار کر کے خوش ہوجاتا ہے، اور طاقت کا اعتراف کر کے اپنے کو عقل مند سمجھتا ہے۔ مگر یہ اتنا بڑا جرم ہے جو سب سے زيادہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والا ہے۔
جو لوگ موجودہ دنیا میں دلیل کے آگے نہ جھکیں، وہ اپنے آپ کو اس خطرے میں مبتلا کرتے ہیں کہ آخرت کی دنیا میں انھیں فرشتوں کی طاقت کے آگے جھکایا جائے ۔ مگر اُس دن کا جھکنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ دلیل کے آگے جھکنا آدمی کے لیے جنت (Paradise) کا دروازہ کھولتا ہے ۔ جب کہ طاقت کے آگے جھکنا صرف اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی کو مجبور کر کے جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیا جائے ۔
دلیل کے آگے جھکنا خدا کے آگے جھکنا ہے۔ جو لوگ دلیل کے آگے نہ جھکیں، وہ گویا خدا کے آگے سرکشی کر رہے ہیں۔ جو لوگ خدا کے آگے سرکشی کریں، اور پھر اسی حال میں مر جائیں، ان کو خدا کبھی معاف نہیں کرے گا۔
موجودہ دنیا کی تمام خرابیوں کی جڑ آزاد خیالی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مفکرین آزادی کو خیر اعلیٰ (summum bonum) کہتے ہیں۔ مگر یہی سب سے بڑا خیر سب سے بڑا شر بن گیا ہے۔ آزادی کے اس تصور نے انسان کو بالکل بے قید بنا دیا ہے۔ وہ کسی قسم کی اخلاقی پابندی کو اپنے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues