Marxism + God = Islam
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۱۰
تری حیات کے نقوش ہم سے مٹا نہ جا سکیں گے ط ع ر تھے۔ چنانچہ اہل برطانیہ نے فاتح ہونے کے باوجود چرچل کو اقتدار سے ہٹا دیا اور مسٹر اٹلی کو ان کی جگہ ملک کا وزیر اعظم بنا دیا۔
مہاتما گاندھی (1948-1869) اور ہندستان کے دوسرے لیڈروں کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا، اور اسی کے نتیجہ میں ملک بآسولت آزاد ہو گیا۔ مگر مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھیوں نے خود اپنے لیے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ ہندوستان میں جنگ آزادی کی قیادت شمالی ہند نے کی تھی ۔ اس کے نتیجہ میں شمالی ہند کے لوگوں میں غیر معتدل قسم کا سیاسی مزاج بلکہ تخریبی مزاج پیدا ہو گیا۔ اس کے مقابلہ میں جنوبی ہند کا مزاج بالکل مختلف تھا۔ شمالی ہند میں اگر انتہا پسندانہ سیاست کا مزاج تھا تو جنوبی ہند میں مخصوص اسباب کے تحت حقیقت پسندانہ تعمیر کا مزاج۔ ان حالات میں مہاتما گاندھی کے لیے صحیح ترین بات یہ تھی کہ وہ آزاد ہندوستان کا وزیر اعظم جنوبی ہند کے کسی شخص کو بنائیں ۔ خوش قسمتی سے اس وقت کے جنوبی ہند میں سی راج گوپال اچاریہ جیسا عظیم لیڈر موجود تھا۔ مگر )Chakravarti Rajagopalachari, 1878-1972( مہاتما گاندھی نے جواہر لال نہرو کو آزاد ہندوستان کا وزیر اعظم بنا دیا۔ جن لوگوں نے جنگ کی قیادت کی تھی انھیں کو مہاتما گاندھی نے تعمیر کی قیادت بھی سونپ دی۔
مہاتما گاندھی نے آزادی ہند کی تحریک نہایت کامیابی کے ساتھ چلائی تھی مگر اسی کامیابی کے ساتھ وہ تعمیر ہند کی تحریک کی رہنمائی نہ کر سکے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر مہاتما گاندھی نے شمالی ہند کے جواہر لال نہرو کے بجائے جنوبی ہند کے راجہ گوپال آچاریہ کو ملک کا وزیر اعظم بنایا ہوتا تو آج ہندوستان کی تاریخ یقینی طور پر بالکل دوسری ہوتی ۔
اقبال نے کہا تھا کہ مارکسزم جمع خدا، برابر اسلام :
Marxism + God = Islam
اسی بات کو ایک اور شخص نے زیادہ بھونڈے انداز میں اس طرح کہا ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues