Al-Risala · March 2021 · page 11

Heaven and Hell are states, not localities.

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱

اسلام لنگڑا تھا، مارکسزم نے اس کو دوسرا پاؤں عطا کیا۔

اس قسم کی باتیں جو لوگ کرتے ہیں، خواہ وہ اقبال ہوں یا غیر اقبال، ان کے متعلق میرا خیال یہی ہے کہ انھوں نے نہ مارکسزم کا گہرا مطالعہ کیا تھا، اور نہ اسلام کا۔ اگر وہ مارکسزم اور اسلام کو گہرائی کے ساتھ جانتے تو ہرگز وہ اس قسم کی بات نہیں کہتے۔

اقبال نے تہذیبِ حاضر کو خارجی مظاہر کی چمک (dazzling exterior) کہا تھا۔ ان کا مشہور شعر ہے :

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اسی جھوٹے نگوں کی چمک کا شکار رہے۔ اقبال کا مذکورہ فارمولا اور اسی طرح ان کے دوسرے بہت سے خیالات اس کی مثال ہیں۔ مثلاً جنت اور دوزخ کے بارے میں اقبال نے اپنے خطبات میں لکھا ہے :

Heaven and Hell are states, not localities.

لعنت ۔ دوزخ جنت اور جہنم کوئی مقام نہیں ہے۔ ان سے مراد انسان کی کیفیت ہے۔ یعنی جنت اور جہنم احوال ہیں، مقامات نہیں۔ اس طرح کی اور کئی باتیں ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ شاعرانہ تک بندیوں میں تو ضرور انھوں نے تہذیب حاضر کی مذمت کی، مگر ان کا حقیقی شعور تہذیب حاضر سے بلند ہو کر نہ سوچ سکا۔ وہ خود بھی تہذیب حاضر کی ظاہری چمک میں گم ہو کر رہ گئے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو (1979-1928) کا نعرہ یہ تھا: اسلام ہمارا دین، جمہوریت ہماری سیاست، سوشلزم ہماری معیشت ہے مسٹر بھٹو کے اس نعرہ پر پاکستان کے مذہبی طبقہ کو سخت اعتراض تھا۔ وہ کہتے تھے کہ مسٹر بھٹو نے اسلام کو تین حصہ میں بانٹ دیا ہے۔ ایک اسلام، دوسرے جمہوریت، تیسرے سوشلزم۔ ( ) (

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page