Heaven and Hell are states, not localities.
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳
کر کسی طرح کی پابندی نہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہمیں حاصل نہیں کہ ہم کسی معاملے پر سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، وہ ہم نے آپ سے نہیں سنا۔ کچھ ہم نے آپ سے سنا ہے، اور کچھ اصحابِ رسول نے ( آپ سے سن کر ) بیان کیا ہے، اور ہم جھوٹ نہیں بولتے ہیں۔
اس قسم کی روایت کو اصطلاحِ حدیث میں مرسل حدیث کہتے ہیں اور علما کا اتفاق ہے کہ صحابی کی مراسیل قابل اعتبار ہیں۔ امام موفق الدین عبد اللہ بن احمد بن قدامی المقدسی کہتے ہیں: مراسیل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ و سلم مقبولة عند الجمهور ( روضة الناظر وجنة المناظر، صفحہ 125) ۔ یعنی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمہور کے نزدیک مقبول ہیں۔ مولانا الطاف حسین حالی (1914-1837) اور ڈاکٹر محمد اقبال (1938-1877) دونوں تقریباً ہم زمانہ ہیں۔ دونوں نے اشعار کے ذریعے قوم کو پیغام دیا۔ مگر اقبال کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ حالی کو حاصل نہ ہوسکی۔
حالی کی مسدس حالی‘ بلاشبہ ایک بہترین نظم ہے۔ میرے نزدیک وہ اقبال کے اشعار سے زیادہ اہم ہے۔ اس کے باوجود کیوں حالی کو وہ مقبولیت نہیں ملی جو اقبال کو ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حالی کا کلام احتساب خویش (self-introspection) ہے، اور اقبال کا کلام احتساب غیر۔ حالی کا کلام درسِ عمل ہے، اور اقبال کا کلام درسِ فخر۔ حالی کے کلام میں کر کے پانے کا سبق ہے، اور اقبال کے یہاں کیے بغیر شاعرانہ ترنگوں (جذبات) میں سب کچھ مل رہا ہے۔ حالی بتاتے ہیں کہ تم دوسروں سے پیچھے ہو گئے ہو۔ اقبال یہ شراب پلاتے ہیں کہ تم سب سے آگے ہو، حتیٰ کہ تمھارا وہ مقام ہے کہ خدا بھی تمھارے الفاظ کا انتظار کر رہا ہے:
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے حالی نے حقیقت پسندی کا سبق دیتے ہوئے کہا:
صدا ایک ہی رُخ نہیں ناؤ چلتی چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues