Heaven and Hell are states, not localities.
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۱۴
اس کے برعکس، اقبال نے پر فخر طور پر اعلان کیا:
حدیثِ بے خبراں است کہ بازمانہ بساز زمانہ با تو نہ سازد تو بازمانہ ستیز یعنی بے خبروں کی نصیحت ہے کہ اگر زمانہ تمہارے خلاف ہو تو تم بھی بدل کر زمانے کے ساتھ ہوجاؤ، اگر زمانہ ساتھ نہیں دیتا تو تم زمانے سے لڑ کر زمانہ کو بدل دو۔
امت نے اقبال کی بات کو پکڑ لیا، مگر خلافِ زمانہ حرکت (anachronism) سے صرف امت کے نقصان میں اضافہ ہوا، اس سے امت کو کوئی مثبت فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ قوم نے اگر حالی کے پیغام کو پکڑا ہوتا تو آج یقیناً اس کی تاریخ دوسری ہوتی۔ مگر قوم کی اکثریت اقبال کا کلام گنگناتی رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نصف صدی کے بعد بھی قوم کے پاس جھوٹے فخر اور خیالی پرواز کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔ 15جون1985 مسلمانوں نے پچھلے دو سو برس کے اندر کوئی بھی ٹھوس تعمیری کام نہیں کیا۔ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ عقلی نقطہ نظر کا غلبہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں عقلی نقطہ نظر نے ایک فکری انقلاب پیدا کیا ہے۔ اس انقلاب نے دینی عقائد کو دور جاہلیت کی چیز قرار دے کر ان کو تاریخ کے خانہ میں ڈال دیا۔ یہاں ضرورت تھی کہ مسلمان اٹھیں اور دینی عقائد اور تعلیمات کو دوبارہ عقلی بنیاد فراہم کریں۔ مگر اس پوری مدت میں منفی ہنگاموں کے سوا مسلمان اور کچھ نہ کر سکے۔
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ زمانے میں تبدیلی واقع ہوئی اور دینی عقائد کو دوبارہ عقلی بنیاد فراہم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے۔ مگر یہ کام تمام تر عیسائی اور یہودی علماء نے انجام دیا۔ اس میں مسلمانوں کا ایک فی صد حصہ بھی نہیں۔ جدید سائنس نے خدا کو کائنات کے نقشہ سے حذف کر دیا تھا۔ اب دوبارہ خدا کائنات کے نقشہ میں نظر آرہا ہے مگر اس عمل کو انجام دینے والے وہ لوگ ہیں، جن کے نام جیمز جینز اور ڈاگٹن جیسے ہیں۔
یہی معاملہ تمام دینی تعلیمات کا ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ دنیا میں دوسرے الہامی مذاہب (عیسائیت، یہودیت ) بھی موجود تھے ۔ اسلام اور ان مذاہب کے درمیان تعلیمات اور تاریخی شخصیتوں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues