Al-Risala · March 2021 · page 16

1985 جون 17

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶

مسلمانوں کو اپنی بدحالی کا ذمہ دار اپنے آپ کو قرار دینا چاہیے، دوسروں کی شکایت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔

مجھے مذکورہ ہندو مکتوب نگار کی رائے سے صد فی صد (100) اتفاق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اصل دشمن خود ان کے اپنے لیڈر ہیں۔ ان لیڈروں نے اپنی شخصی لیڈری کی خاطر قوم کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ مسلمان جب تک اس اصل سبب کا اعتراف آپ کی پیروی نہ کرے تو وہ موجودہ زمانے میں اپنی جگہ حاصل نہیں کر سکتے۔ قدیم عرب کے لوگ اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے حیرت انگیز تھے۔ ان کی مختلف صلاحیتوں میں سے ایک اعلیٰ صلاحیت یہ تھی کہ وہ کم الفاظ میں نہایت با معنی بات کہنا جانتے تھے۔ جنگ جمل کے زمانہ میں حضرت علی نے دو آدمیوں کو کوفہ بھیجا کہ وہ ان کو تعاون پر آمادہ کریں ۔ اس سلسلہ میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ ، خَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلَاكُمْ بِهَا ، لِيَنْظُرَ إِيَّاهُ تَتَّبِعُونَ أَوْ إِيَّاهَا (السنن الکبری للبیہقی ، اثر نمبر 16717)۔ یعنی جب علی ابن ابی طالب نے عمار اور حسن کو کوفہ بھیجا تا کہ وہ انھیں جنگ میں نکلنے کے لیے ابھاریں تو عمار نے تقریر کرتے ہوئے کہا : میں جانتا ہوں کہ عائشہ دنیا اور آخرت میں تمھارے پیغمبر کی بیوی ہیں۔ مگر اللہ نے اس کے ذریعہ سے تم کو آزمایا ہے تا کہ دیکھے کہ تم علی کا ساتھ دیتے ہو یا عائشہ کا اتنی نازک بات کو اس سے زیادہ کم الفاظ میں ہ ہما رویت ہے، اسی طرح تر تیب دیا گیا ہے۔ اس بات با۔

شاید نہیں کہا جاسکتا۔

ہر دو آدمی کے درمیان کا خدا کھڑا ہوا ہے۔ خدا ہر وقت ہر آدمی کی بات سن رہا ہے تا کہ اس کے مطابق لوگوں کے درمیان انصاف کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page