1985 جون 17
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷
اگر آدمی کو اس واقعے کا احساس ہو تو اس کا وہی حال ہوگا، جو ایک آدمی کا عدالت میں ہوتا ہے۔ عدالت میں ہر آدمی بالکل ناپ تول کر بولتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اگر کوئی بات خلاف قاعدہ منہ سے نکل گئی تو وہ فوراً عدالت کی پکڑ میں آجائے گا۔ اسی طرح اللہ پر عقیدہ رکھنے والا جو کچھ بولتا ہے، اس احساس کے تحت بولتا ہے کہ خدا اس کو سن رہا ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ کوئی غلط بات اپنے منہ سے نہ نکالے۔
انسان سے اگر غلطی ہو جائے اور وہ فوراً اس کا اعتراف کرلے تو گویا کہ اس نے خدا کے سامنے اعتراف کیا۔ اور اگر وہ غلطی کا اعتراف نہ کرے تو گویا کہ اس نے خدا کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ لوگ معاملات کو انسان کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سرکشی اور بے انصافی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ غلطی کر کے بھی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے۔
میرا مزاج یہ ہے کہ اگر میں کوئی خلاف حق بات کہہ دوں اور اس کے بعد مجھے معلوم ہو کہ یہ بات حق کے خلاف تھی تو میں اس کو افورڈ (afford) نہیں کر سکتا کہ میں اس کا اعتراف نہ کروں۔ میں حق کے آگے جھک نہ جاؤں۔ اگر میں ایسا نہ کروں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا خود ظاہر ہو کر میرے سامنے آیا اور کہا کہ میرے سامنے جھک جا اس کے باوجود میں خدا کے سامنے نہیں جھکا۔ حق کے سامنے نہ جھکنا ایسا ہی ہے گویا کسی کے سامنے خدا آیا، اور وہ اس کے سامنے نہیں جھکا۔ 20 جون 1985 ایک شخص نے اپنا دل چسپ تجربہ ان الفاظ میں لکھا ہے:
"A fast way of becoming a millionaire", read the ad in the newspapers. "For further particulars send a self-addressed stamped envelope along with Rs. 1". Intrigued, I sent off the money and received the following reply: “Start a scheme just like this one.” (Dilip Rendalkar, Secunderabad)
جلد کروڑ پتی بننے کا طریقہ‘ اس عنوان سے میں نے اخبارات میں ایک اشتہار پڑھا۔ اسی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues