24 جون 1985
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱
کائٹر کا آغاز کا جائزہ پیش کر کس :ا لے۔
رکاوٹوں کے بغیر کام کا نسخہ وہ پیش کر رہے ہیں ، وہ کسی خیالی جزیرہ میں ممکن ہو سکتا ہے۔ موجودہ مقابلہ کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں ۔
زندگی بے حد مشکل امتحان ہے۔ اس مشکل کا ایک پہلو یہ ہے کہ اکثر معاملات میں آدمی کو کٹھن فیصلہ لینا ہوتا ہے، کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف۔ یہ طے کرنا کہ کب کس رخ پر اقدام کیا جائے، یہ بے حد نازک اور مشکل کام ہے، بلکہ شاید اکثر اوقات میں انسانی عقل سے باہر۔ کیوں کہ صحیح فیصلہ لینے کے لیے مستقبل کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے، اور مستقبل کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فیصلہ وہ ہے جو آپ نے صلح حدیبیہ کے وقت لیا اور دوسرا فیصلہ وہ ہے جو آپ نے فتح مکہ کے وقت لیا۔ دونوں دو انتہائی فیصلے تھے۔ صلح حدیبیہ کے وقت مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا گیا اور فتح مکہ کے سفر میں مکمل طور پر آگے بڑھنے کا۔ دونوں انتہائی فیصلے تھے۔ پیغمبر کا فیصلہ خدا کی وحی کی بنیاد پر تھا، اس لیے پیغمبر اسلام کے لیے ممکن تھا کہ وہ اس طرح کے انتہائی کٹھن معاملے میں صحیح فیصلہ لے سکے۔ مگر عام انسان کے لیے شاید یہ ممکن نہیں کہ وہ اس طرح کے انتہائی کٹھن فیصلے اتنے درست طور پر لے سکے۔ عام آدمی کے لیے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ( صحیح البخاری، حدیث نمبر (3560) کے مطابق، یہی راستہ ہے کہ وہ ممکن (possible) یا سُوں کی ساس کی مَندی حَدّیت بر آسان تر کو پہچانے اور اس کو اختیار کرے ۔
ایک عادِت کا شِکار تھے۔ ان کا نام تعلیم تھی ۔
ایک صاحب تھے۔ ان کی کوئی خاص تعلیم نہ تھی۔ اردو اخبارات اور اردو ریڈیو سن کر جو معلومات انھیں مل گئی تھیں وہی ان کا کل علمی اثاثہ تھا۔ غریب ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو بھی کسی قسم کی اعلیٰ تعلیم نہ دلا سکے۔
مگر ان صاحب کی ’’انا‘‘، یعنی ایگو (ego) بے حد بڑھی ہوئی تھی۔ وہ اپنے کو سب سے زیادہ قابل سمجھتے تھے۔ ان کا جھوٹا احساسِ برتری کسی کی علمیّت تسلیم کرنے میں مسلسل مانع ہوا تھا۔ حتّیٰ کہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues