28 جون 1985
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲
اپنے جاہل بچوں میں بھی انھوں نے یہی ذہن پیدا کر دیا۔ انھوں نے اپنے بچوں کو سکھایا کہ کوئی شخص تم سے کوئی بات پوچھے تو ایسا کبھی نہ کہو کہ ہم کو نہیں معلوم۔ چنانچہ ان کے بچوں کا، جہالت کے باوجود، یہ حال تھا کہ کوئی بات کہی جاتی تو فورا بول اٹھتے : ہاں کو سب معلوم ہے (ہم کو سب معلوم ہے)۔ ایسا ہی کچھ حال موجودہ زمانہ کے علما‘ کا ہوا ہے۔ ان کا مطالعہ نہایت محدود ہوتا ہے مگر ان کا ذہن مخصوص اسباب سے یہ بن جاتا ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں۔ مدرسوں کے ان پیدا شدہ علما سے گفتگو کیجیے۔ وہ کبھی یہ نہ کہیں گے کہ یہ بات میں نہیں جانتا۔ وہ ہمیشہ یہ ظاہر کریں گے کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ ان علما کو غیر علما بنانے میں سب سے زیادہ دخل ان کی اسی ذہنیت کا ہے۔ ’’ہم کو سب بات معلوم ہے‘‘ کا مزاج آدمی کو ہر بات سے بے خبر کر رہا ہے، اور موجودہ زمانہ کے علما اس کی عبرت ناک مثال ہیں۔
28 جون 1985
بعض لوگ قرآن میں اختلافِ قرأت‘‘ کے مسئلہ کو لے کر قرآن کی حفاظت کو مشتبہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سراسر مغالطہ ہے۔ ان کو جاننا چاہیے کہ قرآن میں اختلافِ قرأت ہے، اختلافِ کتابت نہیں ہے۔ یعنی تمام دنیا کے سارے قرآن ایک ہی طرز پر لکھے جاتے ہیں۔ اس میں کسی کے یہاں کوئی اختلاف نہیں۔ اب جو فرق ہے وہ قرأت کا ہے۔ یعنی قرآن کو پڑھنے میں لوگ کئی آوازوں کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ مثلاً کچھ عرب قبائل رب الناس کو رب النات پڑھتے تھے۔ کچھ لوگ رَبّک کو رَبّش پڑھتے تھے، وغیرہ وغیرہ(البرھان فی علوم القرآن، جلد 1، صفحه 220)۔ اختلافِ قرأت، بالفاظ دیگر لہجہ کا اختلاف ہر زبان میں ہوتا ہے۔ مثلاً انگریزی کو لیجیے۔ poet کو تمام ملکوں میں اسی طرح لکھا جاتا ہے مگر اس کو پڑھنے میں فرق ہے۔ مثلاً امریکا کے لوگ اس کو پائٹ پڑھتے ہیں اور انگلینڈ کے لوگ پواٹ کہتے ہیں۔ اسی طرح salt کو ہندستان میں سالٹ کہا جاتا ہے۔ مگر یہی لفظ برطانیہ میں سوٹ کی آواز میں پڑھا جاتا ہے۔ جب کہ لکھنے کے اعتبار سے ہر جگہ اس کو ایک ہی طریقہ سے لکھا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues