Al-Risala · March 2021 · page 23

28 جون 1985

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳

قرآن اپنی کتابت کے اعتبار سے بلا شبہ محفوظ ہے، اور صد فی صد (100%) محفوظ ہے۔ اب جو بعض فرق ہے وہ لہجہ اور تلفظ کا فرق ہے۔ اور لہجہ اور تلفظ کا فرق فطری ہے، وہ نہ ختم ہوتا اور نہ اس سے کوئی خرابی واقع ہوتی ہے۔

مستشرقین نے حدیث کو مشتبہ ثابت کرنے کے لیے جن چیزوں کو بنیاد بنایا ہے، ان میں سے ایک حضرت ابو ہریرہ کی کثیر روایات ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ نے ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی صحبت غزوہ خیبر کے بعد شروع ہوئی۔ اس اعتبار سے حضرت ابو ہریرہ کی صحبت رسول ان کثیر روایات کے لیے ناکافی ہیں جو ان سے مروی ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایات کی تعداد 5374 ہے، جیسا کہ ابن حزم نے لکھا ہے۔ مگر یہ کثیر تعداد تکرار اسناد کی بنا پر ہے۔ محدثین کا طریقہ ہے کہ وہ احادیث کو طرق روایت کے اعتبار سے شمار کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت ابو ہریرہ سے ایک حدیث کو چار آدمیوں نے سنا ہو اور وہ چاروں الگ الگ اس کو بیان کریں تو محدثین کے یہاں یہ ایک حدیث چار حدیث بن جائے گی۔ کچھ لوگوں نے اس کا جائزہ لیا ہے اور تکرار کو حذف کر کے روایات کی تعداد متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب انھوںنے مکررات کو حذف کیا تو روایات ابو ہریرہ کی اصل تعداد صرف 1336 رہ گئی۔

اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو منکرین حدیث کا اعتراض بالکل بے حقیقت ثابت ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ حضرت ابو ہریرہ کی مدت صحبت کے اعتبار سے 1336 کی تعداد زیادہ نہیں ۔ جب کہ یہ ثابت ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ اپنے قبیلے سے آ کر مدینہ میں رہ گئے تھے اور مسجد نبوی میں قیام کی وجہ سے ان کو رسول اللہ کے ارشادات سننے کا موقع دوسروں سے زیادہ ملا تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں ان کے بارے میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں: كَانَ مِنْ أَحْفَظِ أَصْحَابِ رَسُولِ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم وألزمه لَهُ عَلَى شبع بطنه وَكَانَتْ يَده مَعَ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page