The Rhyme of the Ancient Mariner
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۲۵
غلبہ دل سرے غلبہ دل سرے علقہ دل سرے کوٹ کرشن اِس ترانہ کے غیر اسلام کے علم بردار اسلام کے علم برداروں کو شکست فاش دیے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بطور خود مفکر اعظم اور قائد اعظم پیدا کر لیے۔ مگر ان اعاظم(اکابر) (اکابر) کی کامیاب تحریکوں کا ثمرہ (result) وہ لوگ اچک لے گئے جو بالکل بر عکس ذہن رکھتے تھے۔
Coleridge, 1772-1834) سیموئیل ٹیلر Taylor Coleridge, 1772-1834)
انگریزی شاعر ہے۔ اس کی ایک نظم کا عنوان ہے:
The Rhyme of the Ancient Mariner
اس نظم میں شاعر نے دکھایا ہے کہ ایک ملاح نے کسی گناہ کے سب (Sun) ایک ہاتھ ہر سمندر میں پھنس رکھا اس نظم میں شاعر نے دکھایا ہے کہ ایک ملاح اپنے کسی گناہ کے سبب سمندر میں پھنس گیا ہے۔ اس کے پاس پینے کے لیے میٹھا پانی نہیں ہے۔ کشتی کے چاروں طرف سمندر کا پانی پھیلا ہوا ہے۔ مگر کھاری ہونے کی وجہ سے وہ اس کو پی نہیں سکتا۔ وہ پیاس سے بے تاب ہو کر کہتا ہے کہ ہر طرف پانی ہی پانی مگر ایک قطرہ نہیں جس کو پیا جاسکے:
Water, water, everywhere / Nor any drop to drink. جو حال کولرج کے خیالی ملاح کا ہوا وہی حال امکانی طور پر اس دنیا میں تمام انسانوں کا ہے۔ انسان پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر پانی کا تمام ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جن میں 1/10 حصہ نمک ملا ہوا ہے۔ اس بنا پر سمندر کا پانی اتنا زیادہ کھاری ہے کہ کوئی آدمی اس کو پی نہیں سکتا۔ اس کا حل قدرت نے بارش کی صورت میں نکالا ہے۔ سورج کی گرمی کے اثر سے سمندروں میں تبخیر (evaporation) کا عمل ہوتا ہے۔ سمندر کا پانی بھاپ بن کر فضا کی طرف اٹھتا ہے، مگر مخصوص قانونِ قدرت کے تحت اس کا نمک کا جزء سمندر میں رہ جاتا ہے، اور صرف میٹھے پانی کا جزء اوپر جاتا ہے۔ یہی صاف کیا ہوا پانی بارش کی صورت میں دوبارہ زمین پر برستا ہے اور انسان کو میٹھا پانی عطا کرتا ہے جس کی اسے سخت ترین ضرورت ہے۔ بارش کا عمل ازالہ نمک (desalination) کا ایک عظیم آفاقی عمل ہے۔ آدمی اگر صرف اس ایک واقعہ پر غور کرے تو اس پر ایسی کیفیت طاری
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues