The Rhyme of the Ancient Mariner
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶
ہو کہ وہ خدا کے کرشموں کے احساس سے رقص کرنے لگے ۔
قرآن میں متعدد مقامات پر یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت کرم الہی ایک آڑ ہے جس کی وجہ سے وہ آپس میں نہیں ملتے۔
یہ ایک انتہائی حیرت ناک بیان ہے۔ نزول قرآن کے وقت ساری دنیا میں کوئی بھی شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ پانی دو قسم کے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے ملے بغیر بہتے ہیں۔ ایسے زمانہ میں قرآن میں اس قسم کی آیت کا ہونا واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خدائی کتاب ہے۔ کیوں کہ کوئی انسان اس راز سے واقف ہی نہ تھا کہ وہ اس کو بیان کرے ۔ موجودہ زمانہ میں تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بات پانی کے کھاری پن میں فرق سے پیدا ہوئی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں (Salinity Current) کے تحت درج ہے : Saline water is denser than fresher water; when two water bodies converge, the more saline of the two flows beneath the less saline. Thus, a river flowing into the sea flows on the surface, sometimes for great distances; the Mississippi, for example, appears as a brown, freshwater stream in the blue waters of the Gulf of Mexico. (EB. VIII, p. 811) کھاری پانی میٹھے پانی سے زیادہ کثیف (dense) ہوتا ہے۔ جب دو پانی ملتے ہیں تو جو دونوں میں سے زیادہ کھاری ہوتا ہے وہ کم کھاری کے نیچے بہتا ہے۔ اس طرح سمندر میں بہنے والا ایک دریا سمندر کی سطح پر بہتا ہے۔ بعض اوقات بہت دور تک مثلاً مسیپی گلف کے نیلے پانی کے اوپر بادامی پانی کی شکل میں بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ کتا کرتا ہوا کالا سمندر آفس کے تندر گڑ کا کُھلتا ہوا نظر آتا ہے اکثر باتیں بالکل سادہ اور فطری ہوتی ہیں مگر ان کو غیر ضروری طور پر پراسرار بنا دیا جاتا ہے۔ مثلاً روایات میں آتا ہے کہ پیغمبر ابراہیم نے جب مکہ میں بیت اللہ کی تعمیر کی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues