Al-Risala · March 2021 · page 28

The Rhyme of the Ancient Mariner

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۲۸

ان میں سے ایک محرک دین کا مذاق اڑانا تھا۔ مثلاً یہود و نصاریٰ نے بعض چیزوں کو خود ساختہ طور پر اپنا مذہبی شعار بنا لیا تھا۔ اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ تم ان معاملات میں یہود و نصاریٰ کا انداز اختیار نہ کرو بلکہ اس سے مختلف طریقہ اختیار کرو ( خَالِفُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ) صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 2186۔

ایک شخص نے اس تعلیم کا مذاق اڑانے کے لیے ایک حدیث گھڑی اور کہا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صَنِيعِ الْأَعَاجِمِ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 3778)۔ یعنی گوشت کو چھری سے نہ کاٹو، کیوں کہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے۔ پیغمبر اسلام نے مذہبی شعار میں تشبہ سے منع کیا تھا۔ مگر کہنے والے نے ایک خود ساختہ مثال کے ذریعے اس کو مضحکہ خیز بنا دیا۔ اس قسم کی لاکھوں حدیثیں وضع کر کے لوگوں کے اندر پھیلا دی گئیں۔ تاہم اس سے دین محفوظ کو کوئی خطرہ نہیں۔

عباسی خلیفہ ہارون رشید (148-193ھ) کا واقعہ ہے۔ اس نے ایک حدیث وضع کرنے والے کو موت کی سزا دی تو اس نے کہا تھا: فأين أنت من ألف حديث وضعتها على نبيك ؟ فقال له : أين أنت يا عدوَّ الله من أبي إسحاق الفزاري وابن المبارك ؟ فإنهما يتصفحانها فیُخرجانہا حرفًا حرفًا ( مرآۃ الزمان فی تواریخ الأعیان، جلد 13 ، صفحہ 117)۔ یعنی تم کیسے ایک ہزار حدیثوں کو نکالو گے، جو میں نے تمھارے نبی پر گڑھی ہے۔ تو ہارون رشید نے کہا: اللہ کے دشمن تم ابو اسحاق الفزاری، اور ابن المبارک سے بچ نہیں سکتے، وہ دونوں اس کو غور سے دیکھیں گے، اور اس کو ایک ایک حرف کر کے نکال دیں گے۔ یہ معاملہ صرف دو محدثین تک محدود نہیں ہے، ہارون رشید نے اس زمانے میں جاری ایک پر اس کی خبر دی، جس کو کثیر تعداد میں محدثین انجام دے رہے تھے۔ صحابہ کرام کے اقوال جو کتابوں میں آئے ہیں، وہ حد درجہ حکمت کی باتیں ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ کسی صحابی نے بھی کسی یونیورسٹی میں تعلیم نہیں پائی تھی۔ پھر یہ علم ان کے اندر کہاں سے آیا۔ یہ علم ان

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page