بارہ سالہ شاہ شجاع ایک خوش مزاج لڑکا تھا،
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹
بارہ سالہ شاہ شجاع ایک خوش مزاج لڑکا تھا،
کے اندر تقویٰ نے پیدا کیا۔ تقویٰ خود علم ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اس کا سینہ علم کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ چنانچہ مسروق تابعی نے کہا: کَفَیٰ بِالْمَرْءِ عِلْمًّا أَنْ يَخْشَیٰ اللهَ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 6، صفحہ 142)۔ یعنی آدمی کے علم کے لیے کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے۔ صحابہ کرام اس علم خاص کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے: مَنْ کَثُرَ ضَحِکُهُ قَلَّتْ هَيْبَتُهُ ، مَنْ مَزَحَ اسْتُخِفَّ بِهِ بِہِ(المعجم الکبیر للطبرانی، اثر نمبر 2259)۔ یعنی جو آدمی زیادہ ہنسے اس کا رعب کم ہو جائے گا۔ اور جو شخص ہنسی مذاق کرے گا ، وہ لوگوں کی نظر میں ہلکا ہو جائے گا۔ حضرت عمر کے اس قول میں جو حکمت ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔
1976 میں طرابلس (لیبیا) میں ایک کانفرنس ہوئی تھی جس کا عنوان تھا :
Muslim Christian Dialogue
میں نے بھی کانفرنس کے دعوت نامہ پر اس میں شرکت کی ۔ اس کانفرنس میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ مجھے قبض (constipation) ہوگیا اور کئی دن تک اجابت نہیں ہوئی تو میں ہوٹل کے اس کمرے میں گیا جہاں شرکاء کانفرنس کے لیے دواؤں کا انتظام تھا۔ وہاں جو ڈاکٹر صاحب ڈیوٹی پر تھے ان سے میں نے قبض کی دوا مانگی۔ ایک کافی بڑے ہال میں دواؤں کا انبار لگا ہوا تھا۔ مگر ڈاکٹر صاحب دیر تک تلاش کرنے کے بعد بھی قبض کی کوئی دوا نہ پاسکے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ کے پاس اتنی ساری دوائیں ہیں اور قبض کی کوئی دوا آپ کے پاس نہیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: ہمارے پاس تو سب دست (diarrhea) کے مریض آرہے ہیں۔
میں نے اپنے اور دوسروں کے بارے میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ میں بھوک سے کم کھاتا تھا اور دوسرے حضرات بھوک سے زیادہ۔ یہ ایک فائیو اسٹار ہوٹل تھا۔ کھانے کی چیزیں نہایت افراط کے ساتھ مہیا کی گئی تھیں۔ کھانے کے مخصوص اوقات کے علاوہ بار بار کی بینیں ہدایت کے دائرے میں ہو بہو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues