White House is the loneliest place in the world.
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۳۱
ولیم ہاورڈ ٹافٹ (William Howard Taft, 1857-1930) امریکا کے 27ویں صدر تھے۔ ان کا زمانہ صدارت 1909 سے 1913 تک ہے۔ وائٹ ہاؤس (واشنگٹن) میں سخت حفاظتی انتظامات رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے صدر کو ایک لمحہ کے لیے بھی پرائیویسی (privacy) کی زندگی حاصل نہیں ہوتی۔ وہ ہر وقت نگرانوں کے پہرے میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔ صدر ٹافٹ نے اس صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس دنیا کی وہ جگہ ہے جہاں آدمی سب سے زیادہ تنہا ہوتا ہے :
White House is the loneliest place in the world.
یہ آدمی کی ایک ضرورت ہے کہ وہ پرائیویسی (privacy) حاصل کر سکے۔ وہ محسوس کرے کہ وہ اپنی دنیا میں ہے جہاں دوسروں کا دخل شامل نہیں۔ مگر بڑے لوگ‘‘ اس سے محروم ہوتے ہیں۔ فطرت انسانی کی اس طلب کا ان کے یہاں کوئی خانہ نہیں ہوتا۔
یہ اور اس طرح کی دوسری چیزیں ان بڑے لوگوں کو مستقل طور پر اضطراب میں رکھتی ہیں۔ وہ اپنے ماحول سے کبھی مطمئن نہیں ہوپاتے۔ مگر اقتدار کا نشہ ایسی چیز ہے جو ہر چیز پر غالب آجاتا ہے۔ آدمی ہر حال میں اقتدار کے منصب پر بیٹھنا چاہتا ہے، خواہ اس کی وجہ سے اسے خود اپنی شخصیت کو قتل کی ہار مان میں زبردست چابی پر دینا پڑتی ہے ربط پر کردینا پڑتا ہے۔
یہاں درہ گرگ کرتا کے ساتھ ایک متبرک شخص کا ذکر ہے، غلط۔
میری زندگی کے تجربات میں سے ایک تجربہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتا۔ خواہ اس کی غلطی کو کتنے ہی زیادہ قوی دلائل کے ساتھ واضح کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں میرے بہت سے تجربات ہیں۔ ایک دل چسپ واقعہ وہ ہے، جو مولانا عامر عثمانی (وفات 1975) سے متعلق ہے۔ 1963 میں میری کتاب ”تعبیر کی غلطی‘‘ چھپی تو لوگوں نے عامر عثمانی صاحب سے کہا کہ وہ اس کا جواب لکھیں۔ عامر عثمانی صاحب اکثر جماعت اسلامی کا دفاع
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues